سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3182
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، وَكُنَّا نَمْشِي مَشْيًا خَفِيفًا ، فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ ، فَرَفَعَ سَوْطَهُ ، فَقَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَرْمُلُ رَمَلًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ` وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے ، اتنے میں ہم سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنا کوڑا لہرایا ( ڈرانے کے لیے ) اور کہا : ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم ( جنازے لے کر ) تیز چلا کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جنازہ جلدی لے جانے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے، اتنے میں ہم سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنا کوڑا لہرایا (ڈرانے کے لیے) اور کہا: ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم (جنازے لے کر) تیز چلا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3182]
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے، اتنے میں ہم سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنا کوڑا لہرایا (ڈرانے کے لیے) اور کہا: ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم (جنازے لے کر) تیز چلا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3182]
فوائد ومسائل:
اس واقعہ میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر صحیح نہیں، عبد الرحمٰن بن سمرہ ہے کہ جیسا کہ درج ذیل روایت میں ہے۔
اس واقعہ میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر صحیح نہیں، عبد الرحمٰن بن سمرہ ہے کہ جیسا کہ درج ذیل روایت میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3182 سے ماخوذ ہے۔