سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب الرُّكُوبِ فِي الْجَنَازَةِ باب: جنازہ میں سوار ہو کر جانا۔
حدیث نمبر: 3178
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ ، وَنَحْنُ شُهُودٌ ، ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ ، فَعُقِلَ حَتَّى رَكِبَهُ ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ ، وَنَحْنُ نَسْعَى حَوْلَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھی ، اور ہم موجود تھے ، پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے ) ایک گھوڑا لایا گیا اسے باندھ کر رکھا گیا یہاں تک کہ آپ سوار ہوئے ، وہ اکڑ کر ٹاپ رکھنے لگا ، اور ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہو کر تیز چلنے لگے ( تاکہ آپ کا ساتھ نہ چھوٹے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2028 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز جنازہ سے فارغ ہونے کے بعد سواری پر بیٹھنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے میں (شرکت کے لیے) نکلے، تو جب آپ لوٹنے لگے تو (آپ کے لیے) بغیر زین کے ننگی پیٹھ والا ایک گھوڑا لایا گیا، آپ (اس پر) سوار ہو گئے، اور ہم آپ کے ہمراہ پیدل چلنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2028]
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے میں (شرکت کے لیے) نکلے، تو جب آپ لوٹنے لگے تو (آپ کے لیے) بغیر زین کے ننگی پیٹھ والا ایک گھوڑا لایا گیا، آپ (اس پر) سوار ہو گئے، اور ہم آپ کے ہمراہ پیدل چلنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2028]
اردو حاشہ: جنازہ پڑھنے کے بعد واپسی پر سوار ہوکر آنا جائز ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ جاتے وقت بھی سوار ہوکر جایا جا سکتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 1944 کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2028 سے ماخوذ ہے۔