حدیث نمبر: 3177
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ،عَنْ ثَوْبَانَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُتِيَ بِدَابَّةٍ ، وَهُوَ مَعَ الْجَنَازَةِ ، فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَ ، فَقِيلَ لَهُ : فَقَالَ : "إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبَ وَهُمْ يَمْشُونَ ، فَلَمَّا ذَهَبُوا رَكِبْتُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا ( پیدل ہی گئے ) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا : ” جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں ، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3177
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يحيي بن أبي كثير مدلس و عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2121)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1480) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جنازہ میں سوار ہو کر جانا۔`
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا (پیدل ہی گئے) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: " جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3177]
فوائد ومسائل:
صاحب ایمان کی بہت بڑی فضیلت ہے۔
کہ فرشتے بھی اس کے جنازے میں شرکت کرتے ہیں۔
نیز اصحاب فضل کا ازحد ادب کرنا چاہیے۔
جس کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی موجودگی میں سوارہونا پسند نہ فرمایا۔
ویسے جنازے کے ساتھ سوار ہوکے جانا جائز ہے۔
مگر سوار پیچھے پیچھے رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3177 سے ماخوذ ہے۔