حدیث نمبر: 3171
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ،حَدَّثَنِي بَابُ بْنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تُتْبَعُ الْجَنَازَةُ بِصَوْتٍ وَلَا نَارٍ، زَادَ هَارُونُ : وَلَا يُمْشَى بَيْنَ يَدَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازہ چیختے چلاتے ( روتے پیٹتے ) نہ لے جایا جائے ، نہ اس کے پیچھے آگ لے جائی جائے “ ۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس کے آگے آگے نہ چلا جائے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, باب بن عمير مجهول (ديوان الضعفاء للذھبي: 544) وشيخه و شيخ شيخه مجهولان لا يعرفان أصلاً, انظر عون المعبود (172/3), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15511)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/427، 528، 531) (ضعیف) » ( اس کی سند میں دو راوی مبہم ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´میت کے ساتھ آگ لے جانا منع ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جنازہ چیختے چلاتے (روتے پیٹتے) نہ لے جایا جائے، نہ اس کے پیچھے آگ لے جائی جائے۔‏‏‏‏" ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس کے آگے آگے نہ چلا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3171]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ میت کے ساتھ نوحہ کرنے والے نہیں ہونے چاہیں۔
نوحہ ہرجگہ ہی حرام ہے۔
اور آج کل جو بدعت چلی ہے۔
کہ میت کو اٹھاتے ہوئے جو کلمہ شہادت کلمہ شہادت پکارتے ہیں۔
حدیث میں وارد ممنوع آواز میں شامل ہے۔
سنن الکبریٰ بہیقی اور کتاب الذھد میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔
کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین میت کو اٹھائے ہوئے۔
آواز بلند کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(سنن الکبریٰ للبییقي: 74/4۔
وکتاب الذھد لابن المبارك، ص: 83) اور آگ لے جانا بھی جائز نہیں۔
جیسے کہ عیسایئوں وغیرہ کے ہاں مشعلیں لے جائی جاتی ہیں۔
یا ہمارے ہاں لوگ قبروں پر بتیاں لگاتے ہیں۔
البتہ رات کے وقت دفن کےلئے روشنی کا اہتمام کرنا شرعی ضرورت کے تحت جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3171 سے ماخوذ ہے۔