سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب فِي النَّارِ يُتْبَعُ بِهَا الْمَيِّتُ باب: میت کے ساتھ آگ لے جانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3171
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ،حَدَّثَنِي بَابُ بْنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تُتْبَعُ الْجَنَازَةُ بِصَوْتٍ وَلَا نَارٍ، زَادَ هَارُونُ : وَلَا يُمْشَى بَيْنَ يَدَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازہ چیختے چلاتے ( روتے پیٹتے ) نہ لے جایا جائے ، نہ اس کے پیچھے آگ لے جائی جائے “ ۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس کے آگے آگے نہ چلا جائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´میت کے ساتھ آگ لے جانا منع ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جنازہ چیختے چلاتے (روتے پیٹتے) نہ لے جایا جائے، نہ اس کے پیچھے آگ لے جائی جائے۔" ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس کے آگے آگے نہ چلا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3171]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جنازہ چیختے چلاتے (روتے پیٹتے) نہ لے جایا جائے، نہ اس کے پیچھے آگ لے جائی جائے۔" ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس کے آگے آگے نہ چلا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3171]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ میت کے ساتھ نوحہ کرنے والے نہیں ہونے چاہیں۔
نوحہ ہرجگہ ہی حرام ہے۔
اور آج کل جو بدعت چلی ہے۔
کہ میت کو اٹھاتے ہوئے جو کلمہ شہادت کلمہ شہادت پکارتے ہیں۔
حدیث میں وارد ممنوع آواز میں شامل ہے۔
سنن الکبریٰ بہیقی اور کتاب الذھد میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔
کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین میت کو اٹھائے ہوئے۔
آواز بلند کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(سنن الکبریٰ للبییقي: 74/4۔
وکتاب الذھد لابن المبارك، ص: 83) اور آگ لے جانا بھی جائز نہیں۔
جیسے کہ عیسایئوں وغیرہ کے ہاں مشعلیں لے جائی جاتی ہیں۔
یا ہمارے ہاں لوگ قبروں پر بتیاں لگاتے ہیں۔
البتہ رات کے وقت دفن کےلئے روشنی کا اہتمام کرنا شرعی ضرورت کے تحت جائز ہے۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ میت کے ساتھ نوحہ کرنے والے نہیں ہونے چاہیں۔
نوحہ ہرجگہ ہی حرام ہے۔
اور آج کل جو بدعت چلی ہے۔
کہ میت کو اٹھاتے ہوئے جو کلمہ شہادت کلمہ شہادت پکارتے ہیں۔
حدیث میں وارد ممنوع آواز میں شامل ہے۔
سنن الکبریٰ بہیقی اور کتاب الذھد میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔
کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین میت کو اٹھائے ہوئے۔
آواز بلند کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(سنن الکبریٰ للبییقي: 74/4۔
وکتاب الذھد لابن المبارك، ص: 83) اور آگ لے جانا بھی جائز نہیں۔
جیسے کہ عیسایئوں وغیرہ کے ہاں مشعلیں لے جائی جاتی ہیں۔
یا ہمارے ہاں لوگ قبروں پر بتیاں لگاتے ہیں۔
البتہ رات کے وقت دفن کےلئے روشنی کا اہتمام کرنا شرعی ضرورت کے تحت جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3171 سے ماخوذ ہے۔