مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3169
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُسَيْنٍ الْهَرَوِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ وَهُوَ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا ، وَصَلَّى عَلَيْهَا ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ " ، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عامر بن سعد سے روایت ہے کہ` وہ عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ ۱؎ خباب رضی اللہ عنہ برآمد ہوئے اور کہنے لگے : عبداللہ بن عمر ! کیا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے ۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے ( یہ سنا تو ) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: چھوٹا گھر جسے دیواروں سے گھیر کر محفوظ کر دیا گیا ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3169
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (945)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت۔`
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ ۱؎ خباب رضی اللہ عنہ برآمد ہوئے اور کہنے لگے: عبداللہ بن عمر! کیا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے (یہ سنا تو) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ رض۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3169]
فوائد ومسائل:
شرعی مسائل کی معتبر ثقہ اور علمی شخصیات سے تصدیق وتوثیق کرلینی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3169 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔