مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3164
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَوْ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَى نَاسٌ نَارًا فِي الْمَقْبَرَةِ ، فَأَتَوْهَا ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ ، وَإِذَا هُوَ يَقُولُ : " نَاوِلُونِي صَاحِبَكُمْ " ، فَإِذَا هُوَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالذِّكْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` کچھ لوگوں نے قبرستان میں ( رات میں ) روشنی دیکھی تو وہاں گئے ، دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں : ” تم اپنے ساتھی کو ( یعنی نعش کو ) مجھے تھماؤ “ ، تو دیکھا کہ ( مرنے والا ) وہ آدمی تھا جو بلند آواز سے ذکر الٰہی کیا کرتا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3164
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, محمد بن مسلم الطائفي حسن الحديث

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رات کے وقت میت کو دفن کرنا۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کچھ لوگوں نے قبرستان میں (رات میں) روشنی دیکھی تو وہاں گئے، دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: تم اپنے ساتھی کو (یعنی نعش کو) مجھے تھماؤ ، تو دیکھا کہ (مرنے والا) وہ آدمی تھا جو بلند آواز سے ذکر الٰہی کیا کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3164]
فوائد ومسائل:
حسب مصلحت رات کے وقت میت کو دفن کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
گزشتہ حدیث (3148وغیرہ) میں رات کے وقت دفن پر جو زجر ہے اس کی وجہ بھی وہیں مذکور ہے۔
کہ رسول اللہ ﷺ کو خبر نہیں دی گئی تھی۔
اور آپﷺ کے جنازے پڑھے بغیر ہی اسے دفن کردیا گیا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3164 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔