حدیث نمبر: 3162
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ إِسْحَاق مَوْلَى زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا مَنْسُوخٌ ، وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، وَسُئِلَ عَنِ الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ ، فَقَالَ : يُجْزِيهِ الْوُضُوءُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَدْخَلَ أَبُو صَالِحٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، يَعْنِي إِسْحَاق مَوْلَى زَائِدَةَ ، قَالَ : وَحَدِيثُ مُصْعَبٍ ضَعِيفٌ ، فِيهِ خِصَالٌ لَيْسَ الْعَمَلُ عَلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں ۔` ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث منسوخ ہے ، میں نے احمد بن حنبل سے سنا ہے : جب ان سے میت کو غسل دینے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : اسے وضو کر لینا کافی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوصالح نے اس حدیث میں اپنے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان زائدہ کے غلام اسحاق کو داخل کر دیا ہے ، نیز مصعب کی روایت ضعیف ہے اس میں کچھ چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, وللحديث شواھد عندالترمذي (993) وانظر الحديث السابق (348), قال معاذ علي زئي: والصحيح فيه أنه موقوف علي أبي هريرة،كما رواه ابن ابي شيبه (2/ 470 ح 11152) موقوفًا عن ابي ھريرة وسنده حسن وھو يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12184) (صحیح) »