حدیث نمبر: 3160
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَمِنَ الْحِجَامَةِ ، وَغُسْلِ الْمَيِّتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے : جنابت سے ، جمعہ کے دن ، پچھنا لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ان میں جنابت کے علاوہ کوئی اور غسل فرض نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3160
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (542), صححه ابن خزيمة (256 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (348)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (348)، (تحفة الأشراف: 16193) (ضعیف) » (اس کے راوی مصعب ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 348 | بلوغ المرام: 98

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 348 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے: (ا) جنابت کی وجہ سے، (۲) جمعہ کے دن (۳) پچھنے لگانے سے، (۴) اور میت کو نہلانے سے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 348]
348۔ اردو حاشیہ:
امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کے بارے میں کہا ہے کہ «ليس بذاك» یعنی غیر معیاری ہے۔ امام احمد بن حنبل اور علی بن مدینی رحمۃ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ غسل میت کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔ [منذري]
مگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  نے التلخیص الحبیر میں کہا ہے کہ کثرت طرق کی بنا پر یہ درجہ حسن سے کم نہیں اور جمہور اس کے استحباب کے قائل ہیں۔ [الروضة النديه]
اور ظاہر ہے کہ غسل جنابت واجب ہے۔ جمعہ کا غسل واجب یا بہت زیادہ مؤکد ہے۔ سینگی اور میت کو غسل دینے سے غسل بطور نظافت مستحب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 348 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 98 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´غسلِ جنابت بالاتفاق فرض ہے`
«. . . وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يغتسل من اربع: من الجنابة،‏‏‏‏ ويوم الجمعة،‏‏‏‏ ومن الحجامة،‏‏‏‏ ومن غسل الميت . . .»
. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ جنابت، جمعہ کے روز، سینگی لگوانے کے بعد اور میت کو غسل دینے کی وجہ سے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 98]
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث میں جن چار چیزوں سے غسل کرنے کا ذکر ہے ان میں سے غسل جنابت بالاتفاق فرض ہے۔
➋ جمعے کے روز غسل جمہور صحابہ و تابعین اور اکثر ائمہ کے نزدیک مسنون ہے، البتہ امام احمد اور امام مالک رحمہما اللہ کا ایک قول یہ ہے کہ فرض ہے۔ امام داود ظاہری اور ابن خزیمہ رحمہما اللہ کا بھی یہی موقف ہے، اور حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کا بھی زاد المعاد میں اسی طرف رحجان ہے۔
➌ سینگی لگوانے سے غسل مسنون ہے، فرض نہیں۔ پیچھے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ آپ نے سینگی لگوائی اور وضو کیے بغیر نماز پڑھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے سینگی لگوانے کے بعد کبھی غسل کیا اور کبھی وضو بھی نہیں کیا۔ رہا میت کو غسل دینے سے غسل تو اس کے بارے میں بھی بیان گزر چکا ہے کہ یہ مستحب ہے، فرض نہیں۔ جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 98 سے ماخوذ ہے۔