حدیث نمبر: 3159
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ أَبُو سُفْيَانَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عِيسَى ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هُوَ ابْنُ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ ، عَنْ عَزْرَةَ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ : عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ : أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ ، فَآذِنُونِي بِهِ ، وَعَجِّلُوا ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے آئے ، اور فرمایا : ” میں یہی سمجھتا ہوں کہ اب طلحہ مرنے ہی والے ہیں ، تو تم لوگ مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا ، کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3159
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عروة بن سعيد و أبوه : مجهولان (تق : 4562،2426), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3418) (ضعیف) » (اس کے راوی سعید بن عثمان لین الحدیث اور عروة مجہول ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جنازہ لے جانے میں جلدی کرنا مستحب اور اسے روکے رکھنا مکروہ ہے۔`
حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے آئے، اور فرمایا: " میں یہی سمجھتا ہوں کہ اب طلحہ مرنے ہی والے ہیں، تو تم لوگ مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا، کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3159]
فوائد ومسائل:
روایت ضعیف ہے۔
مگر دوسری صحیح احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جنازے کی تجہیزوتکفین میں جلدی کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3159 سے ماخوذ ہے۔