سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب فِي الْمِسْكِ لِلْمَيِّتِ باب: میت کو کستوری لگانا۔
حدیث نمبر: 3158
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُ بْنُ الرَّيَّانِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطْيَبُ طِيبِكُمُ الْمِسْكُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے خوشبوؤوں میں مشک عمدہ خوشبو ہے “ ( لہٰذا مردے کو یا کفن میں بھی اسے لگانا بہتر ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´میت کو کستوری لگانا۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے خوشبوؤوں میں مشک عمدہ خوشبو ہے “ (لہٰذا مردے کو یا کفن میں بھی اسے لگانا بہتر ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3158]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے خوشبوؤوں میں مشک عمدہ خوشبو ہے “ (لہٰذا مردے کو یا کفن میں بھی اسے لگانا بہتر ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3158]
فوائد ومسائل:
میت کو کوئی بھی عمدہ خوشبو لگانا مستحب ہے۔
تاہم کستوری ہوتو بہتر ہے۔
میت کو کوئی بھی عمدہ خوشبو لگانا مستحب ہے۔
تاہم کستوری ہوتو بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3158 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1906 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مشک کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمدہ ترین خوشبو مشک ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1906]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمدہ ترین خوشبو مشک ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1906]
1906۔ اردو حاشیہ: کستوری کے بارے میں اشکال یہ ہو سکتا ہے کہ کستوری تو دراصل ہرن کا خون ہے جس کا استعمال جائز نہیں، مگر کوئی چیز جب قدرتی طور پر تبدیل ہو جائے اور اس میں پہلے اثرات بالکل ختم ہو جائیں تو اس کا حکم بدل جائے گا۔ کستوری بھی کسی لحاظ سے خون کے اوصاف نہیں رکھتی، لہٰذا اس کا حکم خون سے مختلف ہو گا۔ خون بھی تو خوراک سے بنتا ہے مگر اسے خوراک کا حکم حاصل نہیں۔ اسی طرح غلہ جات اور سبزیاں بھی تو مٹی اور گوبر وغیرہ ہی سے بنتی ہیں مگر ان پر اصل کا حکم نہیں لگتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1906 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5267 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مردوں کے لیے سونا پہننے کی حرمت کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کی عورتوں کے لیے ریشم اور سونا حلال کیا، اور ان دونوں کو اس کے مردوں کے لیے حرام کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5267]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کی عورتوں کے لیے ریشم اور سونا حلال کیا، اور ان دونوں کو اس کے مردوں کے لیے حرام کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5267]
اردو حاشہ: عورتوں کے لیے سونا پہننا حلال ہے مگر سونا چاندی کے برتنوں کا استعمال مرد وعورت سب کےلیے منع ہے کیونکہ یہ قطعاً غیر ضروری ہے اور سوائے فخر و نمائش کے اس کا کوئی مقصد نہیں۔ نہیں زیورات بھی صرف زینت کی حد تک عورت استعمال کر سکتی ہے فخر و مباہات کے لیے نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے احادیث: 5139 سے 5146 تک)۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5267 سے ماخوذ ہے۔