سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب الاِغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ باب: حیض سے غسل کے طریقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 315
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ،عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ ، وَقَالَتْ : لَهُنَّ مَعْرُوفًا ، وَقَالَتْ : دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فِرْصَةً مُمَسَّكَةً ، قَالَ مُسَدَّدٌ : كَانَ أَبُو عَوَانَةَ ، يَقُولُ : فِرْصَةً ، وَكَانَ أَبُو الْأَحْوَصِ ، يَقُولُ : قَرْصَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا` تو ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں بھلی بات کہی اور بولیں : ” ان میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی “ ، پھر راوی نے سابقہ مفہوم کی حدیث بیان کی ، مگر اس میں انہوں نے «فرصة ممسكة» ( مشک میں بسا ہوا پھاہا ) کہا ۔ مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ «فرصة» ( پھاہا ) کہتے تھے اور ابوالاحوص «قرصة» ( روئی کا ٹکڑا ) کہتے تھے ۔