حدیث نمبر: 3140
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أُخْبِرْتُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ ، وَلَا تَنْظُرَنَّ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ ، وَلَا مَيِّتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی ران کو مت کھولو اور کسی زندہ و مردہ کی ران کو ہرگز نہ دیکھو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3140
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف جدًا, ابن ماجه (1460) والحديث الآتي (4015), حبيب عنعن والواسطة بينه وبين شيخه ھو عمرو بن خالد الواسطي والواسطي متروك رماه وكيع بالكذب (تق : 5021), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1460)، (تحفة الأشراف: 10133)، وقد أخرجہ: حم (1/146) (ضعیف جداً) » (سند میں دو جگہ انقطاع ہے : ابن جریج اور حبیب کے درمیان، اور حبیب و عاصم کے درمیان)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4015 | سنن ابن ماجه: 1460

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4015 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ننگا ہونا منع ہے۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اپنی ران نہ کھولو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو۔‏‏‏‏" ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں نکارت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4015]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم یہ بات صحیح ہے کہ عذر شرعی کے بغیر ران ننگی کرنا یا کسی کی ران دیکھنا جائز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4015 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1460 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´میت کو غسل دینے کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: " تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1460]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ٹانگ کا گھٹنے سےاوپر کا حصہ فخد (ران)
کہلاتا ہے۔
اور اس سے متعلق یہ (1460)
روایت ضعیف ہے۔
اسی لئے اس کے متعلق علماء میں اختلاف ہے۔
کہ یہ ستر میں شامل ہے یا نہیں اور کسی کی ران کو دیکھنا شرعا جائز ہے یا ممنوع۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان اس طرف معلوم ہوتا ہے۔
کہ یہ ستر میں شامل تو نہیں تاہم اسے چھپانا افضل ہے۔
اس کے بارے میں اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے۔
ابن عباس جرہد اور محمد بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جاتی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ران ستر ہے۔
اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نبی کریمﷺنے اپنی ران سے کپڑاہٹا دیا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سند کے لحاظ سے زیادہ قوی ہے۔
اور حضرت جرہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔
تاکہ علماء کے اختلاف سے نکل جایئں۔
۔
۔ (صحیح البخاري، الصلاۃ، باب مایذکر فی الفخذ، قبل حدیث: 371)
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے احکام الجنائز میں ران کے ستر ہونے کو ترجیح دی ہے۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (اِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَۃٌ)
ران ستر ہے والی حدیث کو حسن قرار دیاہے۔ (جامع ترمذي، الأدب، باب ما جاء ان الفخذ عورۃ، حدیث: 2795)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1460 سے ماخوذ ہے۔