حدیث نمبر: 3137
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَمْزَةَ ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، " وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ، دیکھا کہ ان کا مثلہ کر دیا گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: چوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، اس لئے بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آپ نے ان کے لئے دعا کی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3137
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الزھري مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1479) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، دیکھا کہ ان کا مثلہ کر دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3137]
فوائد ومسائل:
اس سے شہید کی نماز جنازہ پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3137 سے ماخوذ ہے۔