سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ باب: شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟
حدیث نمبر: 3135
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، وَهَذَا لَفْظُهُ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، حَدَّثَهُمْ : أَنَّ شُهَدَاءَ أُحُدٍ لَمْ يُغَسَّلُوا ، وَدُفِنُوا بِدِمَائِهِمْ ، وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا وہ اپنے خون سمیت دفن کئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا وہ اپنے خون سمیت دفن کئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3135]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا وہ اپنے خون سمیت دفن کئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3135]
فوائد ومسائل:
1۔
شہید معرکہ کےلئے یہی ہے کہ اسے اسی طرح بلاغسل خون میں لت پت اور انہیں کپڑوں میں دفن کردیا جائے۔
جن میں وہ شہید ہوا ہے۔
جیسے کہ مذکورہ احادیث میں آیا ہے۔
2۔
مذکورہ احادیث ان لوگوں کی دلیلیں ہیں۔
جو شہید کی نماز جنازہ پڑھنے کے قائل نہیں ہیں۔
لیکن بعض روایات سے نماز جنازہ پڑھنے کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے۔
اس لئے اس مسئلہ میں توسع ہے۔
اور دونوں ہی صورتیں جائز ہیں۔
تاہم دلائل کی رہ سے راحج مسلک پہلا ہی معلوم ہوتا ہے۔
دوسرے کا صرف جواز ہی ہے۔
اس جواز کی بنیاد پر شہید کی نماز جنازہ پڑھنے کو اشتہار بازی اور پروپیگنڈے کا ذریعہ بنالینا کوئی پسندیدہ امر نہیں ہے۔
اس طریقے سے تو اس کا جواز بھی محل نظر قرار پا جاتا ہے۔
1۔
شہید معرکہ کےلئے یہی ہے کہ اسے اسی طرح بلاغسل خون میں لت پت اور انہیں کپڑوں میں دفن کردیا جائے۔
جن میں وہ شہید ہوا ہے۔
جیسے کہ مذکورہ احادیث میں آیا ہے۔
2۔
مذکورہ احادیث ان لوگوں کی دلیلیں ہیں۔
جو شہید کی نماز جنازہ پڑھنے کے قائل نہیں ہیں۔
لیکن بعض روایات سے نماز جنازہ پڑھنے کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے۔
اس لئے اس مسئلہ میں توسع ہے۔
اور دونوں ہی صورتیں جائز ہیں۔
تاہم دلائل کی رہ سے راحج مسلک پہلا ہی معلوم ہوتا ہے۔
دوسرے کا صرف جواز ہی ہے۔
اس جواز کی بنیاد پر شہید کی نماز جنازہ پڑھنے کو اشتہار بازی اور پروپیگنڈے کا ذریعہ بنالینا کوئی پسندیدہ امر نہیں ہے۔
اس طریقے سے تو اس کا جواز بھی محل نظر قرار پا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3135 سے ماخوذ ہے۔