سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونا۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ ، فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ أَنَسٌ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَدْمَعُ الْعَيْنُ ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا ، إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ " .
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا ، میں نے اس کا نام اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا “ ، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے ، آپ نے فرمایا : ” آنکھ آنسو بہا رہی ہے ، دل غمگین ہے ۱؎ ، اور ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب کو پسند آئے ، اے ابراہیم ! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ۲؎ “ ۔
۲؎: ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا “، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے، آپ نے فرمایا: ” آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمگین ہے ۱؎، اور ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب کو پسند آئے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3126]
معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ صاحب اختیار نہ تھے۔
بلکہ اللہ کی بارگاہ میں بالکل بے اختیار عاجز اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے بندے اور رسولﷺ تھے۔
آپﷺ کا یہ اسوہ حسنۃ ہر مسلمان کےلئے قابل اتباع ہے۔
اس میں غم کا فطری اظہار بھی ہے اور یہ رب کے فیصلے پر تسلیم ورضا کا آئینہ دار بھی ہے۔
آنحضرتﷺ کے یہ صاحبزادے ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے جو مشیت ایزدی کے تحت حالت شیر خوارگی ہی میں انتقال کر گئے۔
رضي اللہ عنه وأرضاہ۔
(1)
ابو سیف کا نام براء بن اوس انصاری ہے۔
ان کی بیوی ام بردہ خولہ بنت منذر نے حضرت ابراہیم ؓ کو دودھ پلایا۔
ان کی وفات 10 ربیع الاول 10 ہجری کو ہوئی جبکہ ان کی پیدائش ماہ ذوالحجہ 8 ہجری ہے، اس طرح وہ ڈیڑھ سال زندہ رہے۔
ان کی وفات پر رسول اللہ ﷺ کا آبدیدہ ہونا شفقت و رحمت کی وجہ سے تھا، جزع و فزع اس کی قطعا بنیاد نہ تھی۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ محض رونے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اس کے ساتھ واویلا نہ ہو، چنانچہ ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے کہ مجھے دو آوازوں سے منع کیا گیا: ایک تو لہو و لعب اور موسیقی کے ساتھ گاتے ہوئے آواز نکالنا اور دوسرے مصیبت کے وقت رونا دھونا، منہ نوچنا اور گریبان پھاڑنا۔
رہا مصیبت کے وقت آبدیدہ ہونا تو یہ اللہ کی رحمت ہے۔
جو شخص ایسے حالات میں کسی پر رحم کا اظہار نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
(فتح الباري: 222/3)
موسیٰ بن اسماعیل تبوذ کی روایت کو امام بیہقی ؒ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں متصل سند سے بیان کیا ہے، لیکن اس کے الفاظ میں معمولی سا اختلاف ہے۔
(فتح الباري: 223/3)