سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب الصَّبْرِ عِنْدَ الصَّدْمَةِ باب: صبر درحقیقت وہی ہے جو صدمہ آتے ہی کیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَتَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا ، فَقَالَ لَهَا " اتَّقِي اللَّهَ ، وَاصْبِرِي ، فَقَالَتْ : وَمَا تُبَالِي أَنْتَ بِمُصِيبَتِي ؟ فَقِيلَ لَهَا : هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْهُ ، فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَعْرِفْكَ . فَقَالَ : إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى ، أَوْ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ " .
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی موت کے غم میں ( بآواز ) رو رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ۱؎ “ ، اس عورت نے کہا : آپ کو میری مصیبت کا کیا پتا ۲؎ ؟ ، تو اس سے کہا گیا : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ( جب اس کو اس بات کی خبر ہوئی ) تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، آپ کے دروازے پہ اسے کوئی دربان نہیں ملا ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو “ یا فرمایا : ” صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو “ ۔
۲؎: کہ یہ میرے لئے کتنی بڑی مصیبت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی موت کے غم میں (بآواز) رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ۱؎ “، اس عورت نے کہا: آپ کو میری مصیبت کا کیا پتا ۲؎؟، تو اس سے کہا گیا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں (جب اس کو اس بات کی خبر ہوئی) تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ کے دروازے پہ اسے کوئی دربان نہیں ملا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صبر و۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3124]
1۔
رونے پیٹنے اور چیخنے چلانے کے بعد جب انسان ویسے ہی تھک ہار جاتا ہے۔
تو اسے صبر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
صبر تو یہ ہے کہ مصیبت آئے تو اس پر (إنا للہ وانا الیه راجعون) کے علاوہ کچھ نہ کہا جائے۔
اللہ کے فیصلے پر تسلیم ورضا کا مظاہرہ کیا جائے۔
اور جزع فزع نوحہ وماتم اور اللہ کا شکوہ نہ کیا جائے۔
2۔
شدت جزبات اور آپ کو نہ پہچاننے کی وجہ سے اس عورت سے رسول اللہ ﷺکے حق میں جو تقصیر ہوئی آپ نے اسے معاف فرما دیا۔
3۔
جوشخص اپنے نابالغ بچوں کی وفات پر صبرورضا کا اظہار کرے۔
اسے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوجایئں تو اللہ تعالیٰ اس کو ان بچوں پر اپنی رحمت کی برکت سے جنت میں داخل فرمائےگا۔
(صحیح البخاری۔
الجنائز۔
باب فصل من مات لہ ولد فاحتسب حدیث1248) اسی طرح ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: جس مسلما ن کے تین بچے فوت ہوجایئں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1251) علاوہ ازیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے عورتوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیج دے۔
یعنی فوت ہوجایئں۔
تو وہ اس کےلئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جایئں گے۔
تو ایک عورت نے کہا۔
اور دو بچوں کا کیا حکم ہے۔
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو کا بھی یہی حکم ہے (صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1249)
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کوئی دربان نہیں رکھا تھا جو لوگوں کی ضروریات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتا بلکہ لوگ براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی حاجات پیش کرتے تھے لیکن جب خوارج کی طرف سے خفیہ حملوں کا آغاز ہوااور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ہاتھوں شہید ہوئے اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی آمدو رفت پر پابندی لگادی۔
اگرچہ انھوں نے یہ کام احتیاط کے پیش نظر کیا لیکن اس کے باوجود حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا: \"جو حاکم وقت ضرورت مندوں اور کمزور بندوں کے سامنے اپنا دروازہ بند کرے گا۔
تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت و ضرورت اور اس کی مسکینی کے وقت آسمان کے دروازے بندے کردےگا۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔
\"یہ حدیث سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دروازے پر ایک خاص آدمی مقرر کر دیا جو لوگوں کی حاجات و ضروریات معلوم کرکے ان تک پہنچاتا تھا۔
(جامع الترمذی الاحکام حدیث: 1332)
2۔
بہر حال موجودہ حالات کے پیش نظر کسی بااخلاق سمجھ دار اور تجربہ کار شخص کو دربان رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ اعلم۔w
«. . . قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت پر ہوا جو قبر پر بیٹھی رو رہی تھی . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ: 1283]
اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے «باَبُ زِيَارَةِ الْقُبُورِ» (قبروں کی زیارت کا بیان) میں بیان کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ عورت قبرستان جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور صبر کرنے کا حکم تو دیا، لیکن قبرستان میں آنے سے منع نہیں فرمایا۔ عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پیاروں کی قبروں پر جا کر ان کے لیے دعا کریں، موت کو یاد کریں اور آخرت کی فکر کو تازہ کریں، وہاں بےصبری کا مظاہرہ ہرگز نہ کریں۔
‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں ممانعت تھی اور پھر بعد میں اس کی اجازت مل گئی۔
دیگر احادیث میں یہ بھی ہے کہ قبروں پر جایا کرو کہ اس سے موت یاد آتی ہے، یعنی اس سے آدمی کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ ’’اللہ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو قبروں کی بہت زیارت کرتی ہیں۔
‘‘ اس کی شرح میں قرطبی نے کہا کہ یہ لعنت ان عورتوں پر ہے جو رات دن قبروں ہی میں پھرتی رہیں اور خاوندوں کے کاموں کا خیال نہ رکھیں، نہ یہ کہ مطلق زیارت عورتوں کو منع ہے۔
کیونکہ موت کو یاد کرنے میں مرد عورت دونوں برابر ہیں۔
لیکن عورتیں اگر قبرستان میں جا کر جزع فزع کریں اور خلاف شرع امور کی مرتکب ہوں تو پھر ان کے لیے قبروں کی زیارت جائز نہیں ہو گی۔
علامہ عینی حنفی فرماتے ہیں: أن زیارة القبور مکروہ للنساء بل حرام في هذا الزمان ولا سیما نساء مصر۔
یعنی حالات موجودہ میں عورتوں کے لیے زیارت قبور مکروہ بلکہ حرام ہے خاص طور پر مصری عورتوں کے لیے۔
یہ علامہ نے اپنے حالات کے مطابق کہا ہے ورنہ آج کل ہر جگہ عورتوں کا یہی حال ہے۔
مولانا وحید الزماں صاحب مرحوم فرماتے ہیں۔
امام بخاری ؒ نے صاف نہیں بیان کیا کہ قبروں کی زیارت جائز ہے یا نہیں۔
کیونکہ اس میں اختلاف ہے اور جن حدیثوں میں زیارت کی اجازت آئی ہے وہ ان کی شرط پر نہ تھیں، مسلم نے مرفوعاً نکالا ’’میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب زیارت کرو کیونکہ اس سے آخرت کی یاد پیدا ہوتی ہے۔
‘‘ (وحیدی)
حضرت امام بخاری ؒ نے جو حدیث یہاں نقل فرمائی ہے اس سے قبروں کی زیارت یوں ثابت ہوئی کہ آپ ﷺ نے اس عورت کو وہاں رونے سے منع فرمایا۔
مطلق زیارت سے آپ ﷺ نے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔
اسی سے قبروں کی زیارت ثابت ہوئی۔
مگر آج کل اکثر لوگ قبرستان میں جا کر مردوں کا وسیلہ تلاش کرتے اور بزرگوں سے حاجت طلب کرتے ہیں۔
ان کی قبروں پر چادر چڑھاتے پھول ڈالتے ہیں وہاں جھاڑو بتی کا انتظام کرتے اورفرش فروش بچھاتے ہیں۔
شریعت میں یہ جملہ امور ناجائز ہیں۔
بلکہ ایسی زیارات قعطاً حرام ہیں جن سے اللہ کی حدود کو توڑا جائے اور وہاں خلاف شریعت کام کئے جائیں۔
(1)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے زیارت قبور کو ثابت کیا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو قبر کے پاس بیٹھنے سے نہیں روکا اور آپ کا کسی کام کو برقرار رکھنا قابل حجت ہے۔
علاوہ ازیں متعدد احادیث میں صراحت کے ساتھ قبروں کی زیارت کرنا ثابت ہے، چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا، اب ان کی زیارت کیا کرو۔
‘‘ (صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 2260 (977)
ایک روایت میں ہے: ’’مجھے اپنی والدہ کی قبر کے متعلق زیارت کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لہذا تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 2259 (976)
مستدرک حاکم کی روایت میں ہے: ’’قبروں کی زیارت کرنے سے دل نرم اور آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں، اس لیے قبرستان میں فحش یا باطل کلام نہ کرو۔
‘‘ (المستدرك للحاکم: 376/1)
ان احادیث سے مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے زیارت قبور کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 190/3) (2)
خواتین کے لیے قبروں کی زیارت کے متعلق حسب ذیل دلائل ہیں: ٭ حضرت عائشہ ؓ ایک دن اپنے بھائی حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کی قبر کی زیارت کر کے واپس آئیں تو حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ نے تو قبروں کی زیارت سے منع کیا ہے۔
انہوں نے جواب دیا: ہاں، لیکن پھر اس کی اجازت دے دی تھی۔
(السنن الکبریٰ للبیهقي: 78/4)
٭ حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! جب میں قبروں کی زیارت کروں تو کون سی دعا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ’’تم یہ دعا پڑھو: (السلام علی أهل الديار) (صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 2256 (974)
لیکن خواتین کے لیے ٹولیوں کی شکل میں اور کثرت کے ساتھ زیارت کرنا جائز نہیں، کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بہت زیادہ قبروں کی زیارت کرنے والی خواتین پر لعنت فرمائی ہے۔
(سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1576)
جو عورتیں بناؤ سنگھار کر کے نوحہ کرنے کے لیے قبرستان جاتی ہیں، ان کے لیے کسی صورت زیارت قبور جائز نہیں۔
الغرض عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کرنا جائز ہے بشرطیکہ بار بار نہ جائیں، اجتماعی طور پر اس کا اہتمام نہ کریں اور وہاں جا کر خلاف شرع کاموں کا ارتکاب نہ کریں۔
والله أعلم۔
(3)
امام بخاری ؒ نے جنازے سے متعلق دیگر مسائل و احکام سے زیارت قبور کو مقدم کیا ہے، کیونکہ اس سے انسان کا بار بار واسطہ پڑتا ہے، اس لیے امام بخاری نے اس عنوان کو دیگر احکام کے لیے اصل اور بنیاد قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 192/3)
حضرت عمر ؓ والے قول کو حاکم نے مستدرک میں وصل کیا ہے حضرت عمر ؓ نے صلوات اور رحمت کو تو جانور کے دونوں طرف کے بوجھے قرار دیا اور بیچ کا بوجھ جو پیٹھ پر رہتا ہے اسے ﴿أُولَئِكَ هُمُ المُهتدونَ﴾ سے تعبیر فرمایا۔
پیچھے بیان ہوا ہے کہ ایک عورت ایک قبر پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی۔
آپ نے اسے منع فرمایا تو وہ خفا ہوگئی۔
پھر جب اس کو آپ کے متعلق علم ہوا تو وہ دوڑی ہوئی معذرت خواہی کے لیے آئی۔
اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب کیا رکھا ہے صبر تو مصیبت کے شروع ہی میں ہوا کرتا ہے۔
(1)
قرآن کریم میں صبر کرنے والوں کو جو بشارت دی گئی ہے اس سے وہی صبر کرنے والے مراد ہیں جو ابتدائے صدمہ میں صبرواستقلال کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
(2)
امام بخاری ؒ نے صبر کے متعلق آیت کریمہ پیش کی ہے کہ تم صبر اور نماز کے ذریعے سے اللہ کی مدد طلب کرو۔
(سورة البقرة: 153/2)
شاید امام بخاری ؒ کا مقصود ایک واقعے کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ حضرت ابن عباس ؒ کو دوران سفر میں ان کے بھائی قثم بن عباس کے فوت ہونے کی خبر ملی تو انہوں نے (إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)
پڑھا، پھر راستے سے ہٹ کر نماز پڑھنے لگے، دو رکعت پڑھ کر دیر تک بیٹھے رہے۔
جب اٹھے تو آیت ﴿وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ﴾ پڑھنے لگے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصائب و آلام کو برداشت کرنے میں نماز کا بہت تعلق ہے۔
(فتح الباري: 220/3)
(1)
یہ حدیث انتہائی مختصر ہے، آگے تفصیل کے ساتھ آ رہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا قصد یہی تھا کہ اس پر دو مصیبتیں جمع نہ ہوں: ایک تو اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے اور دوسری مصیبت یہ کہ بے صبری سے اس کا ثواب بھی جاتا رہے گا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی بھی مرد کسی بھی عورت کو غلط کام سے روک سکتا ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو قبر پر جزع فزع سے منع کیا اور صبر کی تلقین فرمائی۔
(2)
امام بخاری ؒ کے عنوان سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنا رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت نہ تھی۔
امر بالعمروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ کوئی بھی آدمی ادا کر سکتا ہے، نیز وعظ و نصیحت کے لیے عورتوں سے مخاطب ہونا جائز ہے، خواہ وہ بوڑھی ہوں یا جوان۔
رسول اللہ ﷺ نے اس سے پہلی احادیث میں عورتوں کو ثواب کی رغبت کے لیے مخاطب کیا تھا کہ مصیبت پر صبر کرنا چاہیے اور اس حدیث میں برے انجام سے آگاہ کرنے کے لیے خطاب کیا ہے کہ بے صبری سے تقویٰ جاتا رہتا ہے۔
(فتح الباري: 161/3)
آہستہ آہستہ غم خود بخود غلط ہوجاتا ہے اور پریشانی کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتی ہے۔
اس لیے بعد میں صبر کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے اس لیے آپﷺ نے فرمایا اصل صبر جو اجرو ثواب اور فضیلت کا سبب ہے وہ تو وہی ہے جو پہلی چوٹ اور پہلے صدمہ کے وقت کیا جائے جزع و فزع کے بعد صبر لاحاصل ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صبر وہی ہے جو پہلے صدمے کے وقت ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 987]
1؎:
مطلب یہ ہے کہ صدمے کا پہلا جھٹکا جب دل پر لگتا ہے اس وقت آدمی صبر کرے اور بے صبری کا مظاہرہ، اپنے اعمال و حرکات سے نہ کرے تو یہی صبر کامل ہے جس پر اجر مترتب ہوتا ہے، بعد میں تو ہر کسی کو چار و ناچار صبر آ ہی جاتا ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صبر وہی ہے جو صدمہ (غم) پہنچتے ہی ہو “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1870]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صبر تو وہ ہے جو مصیبت کے اول وقت میں ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1596]
فوائد و مسائل:
(و)
صبر جو شرعاً مطلوب ہے۔
یہ ہے کہ جب مصیبت آئے یا غم پہنچے۔
اس وقت اپنے آپ کو غلط حرکات واقوال سے بچائے۔
کیونکہ جذبات غم کی شدت کے موقع پر اپنے آپ پر قابو رکھنا اور جائز وناجائز کے فرق کا خیال کرنا بہت مشکل ہے۔
جو شخص اس موقعے پر احکام شریعت کو ملحوظ رکھتا ہے۔
اصل صبر اسی کا ہے۔
جس پر اسے وہ تمام انعامات خداوندی حاصل ہوں گے۔
جن کا قرآن وحدیث میں وعدہ کیاگیا ہے۔
بعد میں جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے۔
خود بخود صبر آنا شروع ہوجاتا ہے۔
یہ صبر کوئی ایسی چیز نہیں جس پر کسی کی تعریف کی جائے یا اسے ثواب کی اُمید ہو۔