حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ يَعْنِي حُبِّي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ :حَدَّثَتْنِي الْأَزْدِيَّةُ يَعْنِي مُسَّةَ ، قَالَتْ : حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَأْمُرُ النِّسَاءَ يَقْضِينَ صَلَاةَ الْمَحِيضِ ،فَقَالَتْ : " لَا يَقْضِينَ ، كَانَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ فِي النِّفَاسِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، لَا يَأْمُرُهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَضَاءِ صَلَاةِ النِّفَاسِ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ حَاتِمٍ : وَاسْمُهَا مُسَّةُ تُكْنَى أُمَّ بُسَّةَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ كُنْيَتُهُ أَبُو سَهْلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مسہازدیہ ( ام بسہ ) سے روایت ہے کہ` میں حج کو گئی تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئی ، میں نے ان سے کہا : اے ام المؤمنین ! سمرہ بن جندب عورتوں کو حیض کی نمازیں قضاء کرنے کا حکم دیتے ہیں ، اس پر انہوں نے کہا : وہ قضاء نہ کریں ( کیونکہ ) عورت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہوتی ۱؎ حالت نفاس میں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے نفاس کی نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے صرف ازواج مطہرات ہی مراد نہیں ہیں بلکہ یہ عام ہے اس میں بیٹیاں، لونڈیاں اور خاندان اور رشتہ کی عورتیں بھی داخل ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18288) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نفاس کی مدت کا بیان۔`
مسہازدیہ (ام بسہ) سے روایت ہے کہ میں حج کو گئی تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئی، میں نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین! سمرہ بن جندب عورتوں کو حیض کی نمازیں قضاء کرنے کا حکم دیتے ہیں، اس پر انہوں نے کہا: وہ قضاء نہ کریں (کیونکہ) عورت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہوتی ۱؎ حالت نفاس میں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے نفاس کی نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 312]
312. اردو حاشیہ:
 جب نفاس کے اس قدر طویل ایام نمازوں کی قضا نہیں دی جاتی تو ایسے ہی حیض کا مسئلہ بھی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 312 سے ماخوذ ہے۔