حدیث نمبر: 3110
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسِفٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´صحابی رسول عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے` ( راوی نے ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ، پھر ایک بار عبید سے موقوفاً روایت کیا ) : ” اچانک موت افسوس کی پکڑ ہے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کے غضب کی علامت ہے، کیونکہ اس میں بندے کو مہلت نہیں ملتی کہ وہ اپنے سفر آخرت کا سامان درست کر سکے، یعنی توبہ و استغفار، وصیت یا کوئی عمل صالح کر سکے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3110
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9743)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/424، 4/219) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´موت کا اچانک آ جانا۔`
صحابی رسول عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (راوی نے ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً، پھر ایک بار عبید سے موقوفاً روایت کیا): اچانک موت افسوس کی پکڑ ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3110]
فوائد ومسائل:

امام ابو دائود کے شیخ مسدد نے اس روایت کوایک مرتبہ مرفوع اور ایک مرتبہ موقوف بیان کیا ہے۔


یہ اچانک موت کافر کےلئے اللہ کی ناراضی کی پکڑ ہے۔
کیونکہ ایک تو اس کی عمر اللہ کی نافرمانی میں گزری ہوتی ہے۔
دوسرے اچانک موت کی وجہ سے توبہ کا امکان جو ہوتا ہے۔
وہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔
ورنہ انسان بیما ر ہوتا ہے۔
اور آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھتا ہے۔
تو اس میں مرنے سے پہلے اصلاح اور توبہ کرنے کا موقع ہوتا ہے۔
جو اچانک موت سے ختم ہوجاتا ہے۔
البتہ اللہ کے اطاعت گزار مومن بندے کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔
وہ تو موت کےلئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔
اور اس کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی اطاعت میں گزرا ہوتا ہے۔
اس لئے اس کی اچانک موت اللہ کی طرف سے نارضگی نہیں۔
بلکہ اس کے رفع درجات کا باعث ہوگی۔
اس لئے امام بہیقی کی شعب الایمان میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔
(أخذها لاسف للكافرِ  و رحمةٌ للمؤمنِ) (مشکوة الجنائز، باب تمنی الموت و ذکرہ) اچانک موت کافر کےلئے ناراضی کی پکڑ ہے۔
اور مومن کے لئے رحمت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3110 سے ماخوذ ہے۔