حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ ، يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا ، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ : إِلَى صَلَاةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے : «اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة» اے اللہ ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن سرح نے اپنی روایت میں «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3107
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1556), عبد الله بن وهب المصري صرح بالسماع عند ابن حبان (715)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/172) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عیادت کے موقع پر بیمار کے لیے دعا۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے: «اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة» اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح نے اپنی روایت میں «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3107]
فوائد ومسائل:
جہاد وقتال میں حصہ لینا مسلمان کے جنازے میں شریک ہونا۔
اور نماز کےلئے مسجد میں جانا۔
انتہائی قربت کے اعمال ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3107 سے ماخوذ ہے۔