حدیث نمبر: 310
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ، " أَنَّهَا كَانَتْ مُسْتَحَاضَةً وَكَانَ زَوْجُهَا يُجَامِعُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` وہ مستحاضہ ہوتی تھیں اور ان کے شوہر ان سے جماع کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر (ح 305), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم (305)، (تحفة الأشراف: 15821) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مستحاضہ سے اس کا شوہر جماع کر سکتا ہے۔`
حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ مستحاضہ ہوتی تھیں اور ان کے شوہر ان سے جماع کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 310]
310. اردو حاشیہ:
➊ استحاضہ چونکہ ایک مرض ہے اور یہ عارضہ کسی خاتون کے لے عبادات یا معروف معمولات سے رکاوٹ کا باعث نہیں ہے۔
➋ سنن ابی داود حدیث 309، 310 ضعیف ہیں۔ تاہم دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ مستحاضہ سے صحبت کرنا جائز ہے، غالباً اسی وجہ سے شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں روایات صحیح ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 310 سے ماخوذ ہے۔