حدیث نمبر: 3097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، وَعَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا ، بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا " . قُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، وَمَا الْخَرِيفُ ؟ قَالَ : الْعَامُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ الْبَصْرِيُّونَ مِنْهُ الْعِيَادَةُ ، وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلم بھائی کی عیادت کرے تو وہ دوزخ سے ستر «خریف» کی مسافت کی مقدار دور کر دیا جاتا ہے “ ، میں نے کہا ! اے ابوحمزہ ! «خریف» کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : سال ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اہل بصرہ جن چیزوں میں منفرد ہیں ان میں بحالت وضو عیادت کا مسئلہ بھی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3097
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الفضل بن دلھم لين ورمي بالإعتزال (تق : 5402) ضعفه الجمهور… واختلف قول أحمد وابن معين فيه و ضعفه راجح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 461) (ضعیف) » (اس کے راوی فضل بن دلہم لین الحدیث ہیں )