سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب فِي الْعِيَادَةِ باب: عیادت (بیمار پرسی) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ عَرَفَ فِيهِ الْمَوْتَ ، قَالَ : " قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ " ، قَالَ : فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ أسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَهْ ، فَلَمَّا مَاتَ أَتَاهُ ابْنُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَدْ مَاتَ ، فَأَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ ، فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ .
´اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے مرض الموت میں اس کی عیادت کے لیے نکلے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو اس کی موت کو بھانپ لیا ، فرمایا : ” میں تجھے یہود کی دوستی سے منع کرتا تھا “ ، اس نے کہا : عبداللہ بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا پایا ، جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کے لڑکے ( عبداللہ ) آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! عبداللہ بن ابی مر گیا ، آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ اس میں میں اسے کفنا دوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص اتار کر دے دی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے مرض الموت میں اس کی عیادت کے لیے نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو اس کی موت کو بھانپ لیا، فرمایا: ” میں تجھے یہود کی دوستی سے منع کرتا تھا “، اس نے کہا: عبداللہ بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا پایا، جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کے لڑکے (عبداللہ) آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ بن ابی مر گیا، آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ اس میں میں اسے کفنا دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص اتار کر دے دی۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3094]
1۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
تاہم قمیص کا قصہ صحیح ثابت ہے۔
(علامہ البانی)
2۔
مسلمان کی عیادت کےلئے جانا ایک شرعی حق ہے۔
اسی طرح کسی غلط کردارشخص کی عیادت کے لئے بھی جایا جا سکتا ہے۔
اور یہ یقینا اسلامی اخلاق ومروت کا حصہ ہے۔
3۔
اس منافق کے صاحب زادے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک خالص مومن صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
اور رسول اللہ ﷺ نے شاید اپنے اس محب مخلص کی دلداری کےلئے اپنی قیمص عنایت فرما دی تھی۔
اور یہ عمل ایک بیٹے کا اپنے باپ کے کئے ایک ادنیٰ سا حیلہ تھا کہ شاید اس کی برکت سے اسے کچھ فائدہ ہوجائے۔
اور یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺنے اس طرح سے اس منافق کے ایک احسان کا بدلہ چکایا تھا۔
کہ بدر کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قید کرلئے گئے۔
تو ان کے پاس قمیص نہ تھی۔
تو عبداللہ بن ابی نے اپنی قمیص دی تھی۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے جب کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ اس سے انکار نہ فرمایا کرتے تھے۔
اور یوں بھی کہا گیا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ عمل اس وقت کا ہو جب کہ یہ حکم نازل نہ ہوا تھا۔
(وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ) (التوبہ۔
84/9) ان منافقوں میں سے جب کوئی مر جائے تو آپ اس کا جنازہ مت پڑھیں۔
اوراس کی قبر پر بھی مت کھڑے ہوں۔
(عون المعبود)