سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب عِيَادَةِ النِّسَاءِ باب: عورتوں کی عیادت (بیمار پرسی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3092
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ ، قَالَتْ : عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا مَرِيضَةٌ ، فَقَالَ : " أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلَاءِ ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ ، كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی ، آپ نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ ، اے ام العلاء ! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورتوں کی عیادت (بیمار پرسی) کا بیان۔`
ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: ” خوش ہو جاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3092]
ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: ” خوش ہو جاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3092]
فوائد ومسائل:
1۔
مریض کی عیادت کرنا ایک لازمی شرعی حق ہے۔
مردوں کا مردوں کے ہاں اور عورتوں کا عورتوں کے ہاں جانا معلوم ومعروف ہے۔
مگر مرد عورتوں کی عیادت کےلئے جایئں۔
یا عورتیں مردوں کی تو اس میں بھی کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔
جب کہ شرعی آداب یعنی حجاب (پردے) کا اہمتمام ہوا اور اس عمل پر کوئی ضروری نہیں کہ مریض اورعیادت کنندہ کی باہم گفتگو بھی ہو۔
مرد مردوں کے پاس جاکر مریضہ کے متعلق خیر وعافیت دریافت کرسکتے ہیں۔
اور ایسے ہی عورتیں۔
2۔
مذکورہ واقعہ میں حضرت ام علاء کے شرف اور نبی کریم ﷺ کی تواضع کا بیان ہے۔
کہ نبی کریمﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور صحابیات سب کا خاص خیال رکھا کرتے تھے۔
3۔
یہ خوشخبری مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص ہے۔
1۔
مریض کی عیادت کرنا ایک لازمی شرعی حق ہے۔
مردوں کا مردوں کے ہاں اور عورتوں کا عورتوں کے ہاں جانا معلوم ومعروف ہے۔
مگر مرد عورتوں کی عیادت کےلئے جایئں۔
یا عورتیں مردوں کی تو اس میں بھی کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔
جب کہ شرعی آداب یعنی حجاب (پردے) کا اہمتمام ہوا اور اس عمل پر کوئی ضروری نہیں کہ مریض اورعیادت کنندہ کی باہم گفتگو بھی ہو۔
مرد مردوں کے پاس جاکر مریضہ کے متعلق خیر وعافیت دریافت کرسکتے ہیں۔
اور ایسے ہی عورتیں۔
2۔
مذکورہ واقعہ میں حضرت ام علاء کے شرف اور نبی کریم ﷺ کی تواضع کا بیان ہے۔
کہ نبی کریمﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور صحابیات سب کا خاص خیال رکھا کرتے تھے۔
3۔
یہ خوشخبری مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3092 سے ماخوذ ہے۔