حدیث نمبر: 3090
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ ، الْمَعْنَى قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ السَّلَمِيُّ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ ، لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ، ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ ، أَوْ فِي مَالِهِ ، أَوْ فِي وَلَدِهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ ، ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ اتَّفَقَا حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´خالد سلمی اپنے والد سے ( جنہیں شرف صحبت حاصل ہے ) روایت کرتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا : ” جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے ، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3090
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (1568), وللحديث شاھد عند أبي يعلٰي الموصلي (10/482 ح 6095 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15562)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/272) (صحیح) » (شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ اس کے اندر محمد بن خالد اور ان کے والد خالد سلمی دونوں مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ ، نمبر: 2599)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گناہوں کے لیے کفارہ بننے والی بیماریوں کا بیان۔`
خالد سلمی اپنے والد سے (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا: جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3090]
فوائد ومسائل:
گناہوں کے کفارے اور درجات کی بلندی کے اعتبا ر سے بیماریاں مومن کےلئے اللہ کا ایک بڑا انعام ہیں۔
بشرط یہ کہ کما حقہ صبر کرسکے۔
تاہم بیماری کا سوال نہیں کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3090 سے ماخوذ ہے۔