سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب نَبْشِ الْقُبُورِ الْعَادِيَّةِ يَكُونُ فِيهَا الْمَالُ باب: مدفون مال کے لیے پرانی قبروں کی کھدائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ يَدْفَعُ عَنْهُ فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ فَدُفِنَ فِيهِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ إِنْ أَنْتُمْ نَبَشْتُمْ عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ مَعَهُ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ .
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کی طرف نکلے تو راستے میں ہمارا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا : ” یہ ابورغال ۱؎ کی قبر ہے عذاب سے بچے رہنے کے خیال سے حرم میں رہتا تھا ۲؎ لیکن جب ( ایک مدت کے بعد ) وہ ( حدود حرم سے ) باہر نکلا تو وہ بھی اسی عذاب سے دوچار ہوا جس سے اس کی قوم اسی جگہ دوچار ہو چکی تھی ( یعنی زلزلہ کا شکار ہوا ) وہ اسی جگہ دفن کیا گیا ، اور اس کی نشانی یہ تھی کہ اس کے ساتھ سونے کی ایک ٹہنی گاڑ دی گئی تھی ، اگر تم قبر کو کھودو تو اس کو پا لو گے “ ، یہ سن کر لوگ دوڑ کر قبر پر گئے اور کھود کر ٹہنی ( سونے کی سلاخ ) نکال لی ۔
۲؎: کیونکہ حرم میں عذاب نازل نہیں ہو گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کی طرف نکلے تو راستے میں ہمارا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: ” یہ ابورغال ۱؎ کی قبر ہے عذاب سے بچے رہنے کے خیال سے حرم میں رہتا تھا ۲؎ لیکن جب (ایک مدت کے بعد) وہ (حدود حرم سے) باہر نکلا تو وہ بھی اسی عذاب سے دوچار ہوا جس سے اس کی قوم اسی جگہ دوچار ہو چکی تھی (یعنی زلزلہ کا شکار ہوا) وہ اسی جگہ دفن کیا گیا، اور اس کی نشانی یہ تھی کہ اس کے ساتھ سونے کی ایک ٹہنی گاڑ دی گئی تھی، اگر تم قبر کو کھود۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3088]
بلاشبہ یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
لیکن مسئلہ یہی ہے کہ کفار کی قبروں سے اگر کوئی اس طرح کا مال نکال لے تو وہ بمعنی رکاز ہوگا۔
کیونکہ کفار کی قبروں کی تعظیم اس طرح ضروری نہیں ہے۔
جس طرح کے مسلمانوں کی قبروں کی ضروری ہے۔
لہذا ان کی قبور عام زمین کے حکم میں ہوں گی۔
جسے کھود کر مدفون خزانہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم