سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرِّكَازِ وَمَا فِيهِ باب: دفینہ کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الزَّمْعِيُّ ، عَنْ عَمَّتِهِ قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ ،عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا ، قَالَتْ : ذَهَبَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ بِبَقِيعِ الْخَبْخَبَةِ ، فَإِذَا جُرَذٌ يُخْرِجُ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُخْرِجُ دِينَارًا دِينَارًا حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا ، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً حَمْرَاءَ يَعْنِي فِيهَا دِينَارٌ ، فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا ، فَذَهَبَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ لَهُ : خُذْ صَدَقَتَهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ هَوَيْتَ إِلَى الْجُحْرِ ؟ قَالَ : لَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا " .
´ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں` مقداد اپنی ضرورت سے بقیع خبخبہ ۱؎ گئے وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چوہا سوراخ سے ایک دینار نکال رہا ہے ( وہ دیکھتے رہے ) وہ ایک کے بعد ایک دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ اس نے ( ۱۷ ) دینار نکالے ، پھر اس نے ایک لال تھیلی نکالی جس میں ایک دینار اور تھا ، یہ کل ( ۱۸ ) دینار ہوئے ، مقداد ان دیناروں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پورا واقعہ بتایا اور عرض کیا : اس کی زکاۃ لے لیجئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم نے سوراخ کا قصد کیا تھا “ ، انہوں نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تمہیں اس مال میں برکت عطا فرمائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں مقداد اپنی ضرورت سے بقیع خبخبہ ۱؎ گئے وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چوہا سوراخ سے ایک دینار نکال رہا ہے (وہ دیکھتے رہے) وہ ایک کے بعد ایک دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ اس نے (۱۷) دینار نکالے، پھر اس نے ایک لال تھیلی نکالی جس میں ایک دینار اور تھا، یہ کل (۱۸) دینار ہوئے، مقداد ان دیناروں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پورا واقعہ بتایا اور عرض کیا: اس کی زکاۃ لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” کیا تم نے سوراخ کا قصد کیا تھا “، انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3087]
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
شارحین حدیث لکھتے ہیں۔
جس نے کوئی جگہ کھودی نہ ہو۔
وہ رکاز نہیں بلکہ گرے پڑے مال (لقطة) کی مانند ہے۔
اور اس میں پانچواں حصہ ادا نہیں کرنا پڑتا۔
بلکہ پہلے اعلان کرنا چاہیے۔
بعد اذاں اپنے کام میں لایا جائے۔
(خطابی)