سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرِّكَازِ وَمَا فِيهِ باب: دفینہ کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3085
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ، سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دفینہ میں خمس ( پانچواں حصہ ) ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی پانچ حصے میں ایک حصہ اللہ و رسول کا ہے باقی چار حصے پانے والے کے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3085
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1499) صحيح مسلم (1710)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2509 | معجم صغير للطبراني: 922 | مسند الحميدي: 1110
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دفینہ کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دفینہ میں خمس (پانچواں حصہ) ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3085]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دفینہ میں خمس (پانچواں حصہ) ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3085]
فوائد ومسائل:
کسی اجاڑ زمین میں یا قدیم پرانی آبادی میں کسی کا دفن کردہ مال جس کا مالک معلوم نہ ہو رکاز کہلاتا ہے، جسے ایسا مال ملے وہ خمس (پانچواں حصہ) ادا کرنے کے بعد اس کا مالک بن جاتا ہے۔
کسی اجاڑ زمین میں یا قدیم پرانی آبادی میں کسی کا دفن کردہ مال جس کا مالک معلوم نہ ہو رکاز کہلاتا ہے، جسے ایسا مال ملے وہ خمس (پانچواں حصہ) ادا کرنے کے بعد اس کا مالک بن جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3085 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1110 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1110- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ معدنیات میں گر کر مرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ کنوئیں میں گر کر مرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا، اور خزینے میں پانچویں حصے کی ادائیگی لازم ہوگی۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1110]
فائدہ:
اس حدیث میں ہے کہ ہر وہ نقصان جو جانور کے مارنے سے ہو یا کان یا کنویں کے گرنے سے ہو تو اس کی چٹی اور دیت جانور، کان اور کنویں کے مالک پر نہیں ہوگی، کیونکہ مالک نے تو مزدور کو اپنے کام کی غرض سے کام پر لگایا تھا نہ کہ وہ اس کو مارنا چاہتا تھا۔ نیز اس حدیث میں مدفون چیز ملنے پر پانچواں حصہ اس کی زکاۃ دینے کا مسئلہ ہے تفصیل کے لیے دیکھیے۔ (فتح الباری: 3 / 365)
اس حدیث میں ہے کہ ہر وہ نقصان جو جانور کے مارنے سے ہو یا کان یا کنویں کے گرنے سے ہو تو اس کی چٹی اور دیت جانور، کان اور کنویں کے مالک پر نہیں ہوگی، کیونکہ مالک نے تو مزدور کو اپنے کام کی غرض سے کام پر لگایا تھا نہ کہ وہ اس کو مارنا چاہتا تھا۔ نیز اس حدیث میں مدفون چیز ملنے پر پانچواں حصہ اس کی زکاۃ دینے کا مسئلہ ہے تفصیل کے لیے دیکھیے۔ (فتح الباری: 3 / 365)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1109 سے ماخوذ ہے۔