حدیث نمبر: 3082
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي شَبِيبُ بْنُ نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْيَتِهَا فَقَدِ اسْتَقَالَ هِجْرَتَهُ وَمَنْ نَزَعَ صَغَارَ كَافِرٍ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَهُ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ وَلَّى الإِسْلَامَ ظَهْرَهُ " ، قَالَ : فَسَمِعَ مِنِّي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ لِي : أَشُبَيْبٌ حَدَّثَكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : فَإِذَا قَدِمْتَ فَسَلْهُ فَلْيَكْتُبْ إِلَيَّ بِالْحَدِيثِ ، قَالَ : فَكَتَبَهُ لَهُ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ الْقِرْطَاسَ فَأَعْطَيْتُهُ فَلَمَّا قَرَأَهُ تَرَكَ مَا فِي يَدِهِ مِنَ الأَرْضِينَ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الْيَزَنِيُّ لَيْسَ هُوَ صَاحِبَ شُعْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جزیہ والی زمین خرید لی تو اس نے ( گویا ) اپنی ہجرت فسخ کر دی اور جس نے کسی کافر کی ذلت ( یعنی جزیہ کو ) اس کے گلے سے اتار کر اپنے گلے میں ڈال لیا ( یعنی جزیے کی زمین خرید لے کر زراعت کرنے لگا اور جزیہ دینا قبول کر لیا ) تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈل دیا “ ۔ ( اس حدیث کے راوی سنان ) کہتے ہیں : خالد بن معدان نے یہ حدیث مجھ سے سنی تو انہوں نے کہا : کیا شبیب نے تم سے یہ حدیث بیان کی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : جب تم شبیب کے پاس جاؤ تو ان سے کہو کہ وہ یہ حدیث مجھ کو لکھ بھیجیں ۔ سنان کہتے ہیں : ( میں نے ان سے کہا ) تو شبیب نے یہ حدیث خالد کے لیے لکھ کر ( مجھ کو ) دی ، پھر جب میں خالد بن معدان کے پاس آیا تو انہوں نے قرطاس ( کاغذ ) مانگا میں نے ان کو دے دیا ، جب انہوں نے اسے پڑھا ، تو ان کے پاس جتنی خراج کی زمینیں تھیں سب چھوڑ دیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ یزید بن خمیر یزنی ہیں ، شعبہ کے شاگرد نہیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ حکم غالباً ابتداء اسلام میں تھا یا پھر یہ تہدید ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ صر ف کاشتکار بن کر رہ جائے اور جہاد کو بھول جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3082
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عمارة مجهول و سنان بن قيس مقبول (تقريب التهذيب: 4850،2643) أي مجهول الحال, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10969) (ضعیف الإسناد) » (اس کے راوی سنان بن قیس لیّن الحدیث ہیں، نیز اس میں بقیہ بھی ہیں جو متکلم فیہ ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خراج کی زمین میں رہنے کا بیان۔`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے جزیہ والی زمین خرید لی تو اس نے (گویا) اپنی ہجرت فسخ کر دی اور جس نے کسی کافر کی ذلت (یعنی جزیہ کو) اس کے گلے سے اتار کر اپنے گلے میں ڈال لیا (یعنی جزیے کی زمین خرید لے کر زراعت کرنے لگا اور جزیہ دینا قبول کر لیا) تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈل دیا۔‏‏‏‏" (اس حدیث کے راوی سنان) کہتے ہیں: خالد بن معدان نے یہ حدیث مجھ سے سنی تو انہوں نے کہا: کیا شبیب نے تم سے یہ حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب تم شبیب کے پاس جاؤ تو ان سے کہو کہ وہ یہ حدیث مجھ کو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3082]
فوائد ومسائل:
ان دونوں روایتوں کا مفہوم یہ ہے کہ جو مسلمان کفار کی خراجی زمین حاصل کرکے کاشت کرنے لگے۔
اور اس کا جزیہ اور خراج بھی یہی ادا کرے۔
تو اس طرح یہ مسلمان کفار پرمسلط کردہ ذلت کو جواللہ نے ان پر ڈالی ہے۔
اپنے گلے لے رہا ہے۔
اور یہ عمل اسلامی حمیت کے منافی ہے، لیکن یہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3082 سے ماخوذ ہے۔