سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ باب: بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ الْعَبَّاسِ السَّاعِدِيِّ يَعْنِي ابْنَ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ فَلَمَّا أَتَى وَادِي الْقُرَى إِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " اخْرُصُوا ، فَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ أَوْسُقٍ ، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ : أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، فَأَتَيْنَا تَبُوكَ فَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَكَسَاهُ بُرْدَةً وَكَتَبَ لَهُ يَعْنِي بِبَحْرِهِ ، قَالَ : فَلَمَّا أَتَيْنَا وَادِي الْقُرَى ، قَالَ لِلْمَرْأَةِ : كَمْ كَانَ فِي حَدِيقَتِكِ ؟ قَالَتْ : عَشْرَةَ أَوْسُقٍ خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي مُتَعَجِّلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَتَعَجَّلْ " .
´ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک ( جہاد کے لیے ) چلا ، جب آپ وادی قری میں پہنچے تو وہاں ایک عورت کو اس کے باغ میں دیکھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا : ” تخمینہ لگاؤ ( کہ باغ میں کتنے پھل ہوں گے ) “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ۱؎ کا تخمینہ لگایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کہا : ” آپ اس سے جو پھل نکلے اس کو ناپ لینا “ ، پھر ہم تبوک آئے تو ایلہ ۲؎ کے بادشاہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید رنگ کا ایک خچر تحفہ میں بھیجا آپ نے اسے ایک چادر تحفہ میں دی اور اسے ( جزیہ کی شرط پر ) اپنے ملک میں رہنے کی سند ( دستاویز ) لکھ دی ، پھر جب ہم لوٹ کر وادی قری میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا : ” تیرے باغ میں کتنا پھل ہوا ؟ “ اس نے کہا : دس وسق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ہی کا تخمینہ لگایا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں جلد ہی مدینہ کے لیے نکلنے والا ہوں تو تم میں سے جو جلد چلنا چاہے میرے ساتھ چلے “ ۳؎ ۔
۲؎: شام کی ایک آبادی کا نام ہے۔
۳؎: باب سے حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ پر اس عورت کی ملکیت برقرار رکھی اس لئے کہ اس نے اس زمین کو آباد کیا تھا، اور جو کسی بنجر زمین کو آباد کر ے وہی اس کا حقدار ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک (جہاد کے لیے) چلا، جب آپ وادی قری میں پہنچے تو وہاں ایک عورت کو اس کے باغ میں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: " تخمینہ لگاؤ (کہ باغ میں کتنے پھل ہوں گے) " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ۱؎ کا تخمینہ لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کہا: " آپ اس سے جو پھل نکلے اس کو ناپ لینا "، پھر ہم تبوک آئے تو ایلہ ۲؎ کے بادشاہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید رنگ کا ایک خچر تحفہ میں بھیجا آپ نے اسے ایک چادر تحفہ میں دی اور اسے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3079]
1۔
اس خاتون کا یہ باغ غالباً کسی بنجر زمین کو آباد کرکے ہی لگایا گیا تھا۔
جو اس کی ملکیت سمجھا گیا۔
اور یہ ایک قابل قدر کام ہے۔
حاکم ایلہ نے اطاعت قبول کرلی تھی۔
اس لئے آپ نے حاکم ایلہ کو اس کا علاقہ لکھ دیا اور یہ بھی کہ وہ جزیہ ادا کریں گے۔
2۔
پھل اترنے سے پہلے اس کا اندازہ لگانا جائز ہے۔
تا کہ اس کے مطابق عشر وغیرہ ادا کیا جا سکے۔
3۔
رسول اللہ ﷺ کا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا۔
جو کہ معجزہ ہے۔
دیگر عام اندازہ لگانے والوں کا اندازہ یقینا کم یا زیادہ ہوتا ہے۔
4۔
غیر مسلم کا ہدیہ قبول کرلینا جائز ہے۔
بشرط یہ کہ کوئی شرعی قباحت نہ ہو۔
5۔
سفر میں اپنا مقصد پورا کرلینے کے بعد گھر آنے میں جلدی کرنی چاہیے۔
طابہ، مدینہ طیبہ کا نام ہے اور اُحد پہاڑ کا محبت کرنا مبنی برحقیقت ہے۔
اللہ تعالیٰ کائنات کی ہرچیز میں قوتِ ادراک اور احساس پیدا کرنے پر قادر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم اس کی تسبیح نہیں سمجھتے۔
‘‘ (بنی إسرائیل: 44: 17)
چونکہ اس حدیث میں غزوہ تبوک کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے ذکر کیا ہے۔
واللہ المستعان۔
یہ اسلام کا مرکز ہے، یہاں پیغمبر اسلام ہادی اعظم ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔
حکومت سعودیہ عربیہ أیدها اللہ تعالیٰ نے اس شہر کی صفائی و ستھرائی پاکیزگی آبادکاری میں وہ خدمت انجام دی ہیں جو رہتی دنیا تک یادگار عالم رہیں گے۔
(1)
مدینہ طیبہ کے کئی ایک نام ہیں جو اس کے شرف و منزلت پر دلالت کرتے ہیں: طابہ اور طیبہ، ان کا اشتقاق ایک ہی ہے کیونکہ اسے شرک و بدعت سے پاک قرار دیا گیا اور اس کی فضا اور آب و ہوا کو خوشگوار بنا دیا گیا ہے۔
اس کے چند ایک نام حسب ذیل ہیں: ٭المدينه٭المطيبه٭المسكينه٭الدار٭مجبورة٭منيرة٭مجبة٭محبوبة ٭قاصمه٭الإيمان۔
(فتح الباري: 115/4)
دیگر کتب تاریخ میں ان کے علاوہ بہت سے نام بیان کیے گئے ہیں۔
(2)
بعض علماء نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ مدینہ طیبہ میں رہنے والا اس کی مٹی اور دیواروں سے پاکیزہ خوشبو پاتا ہے۔
ہمارے نزدیک اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ مسجد نبوی میں رسول اللہ ﷺ کے گھر اور منبر کے درمیانی خطے کو جنت کی کیاری قرار دیا گیا ہے، اس سے بڑھ کر اور خوشگواری کیا ہو سکتی ہے؟ (عمدةالقاري: 578/7)
(1)
وادي القُري: یہ ایک پرانا شہر ہے جو مدینہ اور شام کے درمیان واقع ہے۔
(2)
اُخرصوها: (اس باغ کے)
پھل کا اندازہ لگاؤ، کتنا ہو گا۔
فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر تبوک میں جن چیزوں کو نشاندہی فرمائی تھی، ان کا ظہور اسی طرح ہوا، چشمہ تبوک کا واقعہ پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے، اس حدیث میں، باغ کی کھجوروں کی مقدار کا تذکرہ ہے اور اس بات کا کہ آپ نے ساتھیوں کی ہمدردی اور خیرخواہی کے پیش نظر، ان پر شفقت کا اظہار کرتے ہوئے، ان کو ایک احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کا حکم دیا کہ رات کو سخت آندھی چلے گی، اس لیے اس میں کوئی اکیلا آدمی نہ اٹھے اور اپنے اونٹوں کے زانو بند مضبوط طریقے سے باندھ لینا، لیکن دو آدمی مجبوری کی بنا پر اس کی پابندی نہ کر سکے، ایک قضائے حاجت کے لیے اٹھا تو اس کا اس اثنا میں گلہ گھونٹ دیا گیا، دوسرا آدمی اپنے اونٹ کی تلاش میں نکلا تو آندھی نے اس کو بنوطی کے دو مشہور پہاڑوں میں پھینک دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں نے تمہیں اکیلے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا؟‘‘ پھر آپﷺ کی دعا سے گلا گھٹنے والے کو تندرستی حاصل ہو گئی اور دوسرا جب آپ مدینہ واپس آ گئے تو آپ سے آ ملا اور آپ نے انصاری گھرانوں کی فضیلت ان کی اسلام لانے میں سبقت اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ان کی محنت و کوشش کی بنیاد پر بیان کی، جو پہلے مسلمان ہوئے اور اسلامی خدمات میں پیش پیش رہے، ان کو اول نمبر دیا، اس بنیاد پر بعد والے مراتب بیان کیے۔
«. . . قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومَنَّ أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ، فَعَقَلْنَاهَا . . .»
". . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے۔ اور جس کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة: 1481]
غزوہ تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا: «اما إنها ستهب الليلة ريح شديدة فلا يقومن احد، ومن كان معه بعير فليعقله»
"آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے۔ اور جس کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں۔"
↰ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی باخبر کر دیا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آندھی آنے سے قبل ہی اس کی خبر مل گئی تھی، لیکن کوئی بھی اس خبر ملنے کی بنا پر صحابہ کرام کو عالم الغیب ثابت نہیں کرتا، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ملنے پر عالم الغیب ثابت کرنا کیسے درست ہے؟حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرامین میں جا بجا اس بات کی صراحت فرما دی ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے، اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا!