حدیث نمبر: 3078
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، قَالَ هِشَامٌ : الْعِرْقُ الظَّالِمُ أَنْ يَغْرِسَ الرَّجُلُ فِي أَرْضِ غَيْرِهِ فَيَسْتَحِقَّهَا بِذَلِكَ ، قَالَ مَالِكٌ : وَالْعِرْقُ الظَّالِمُ كُلُّ مَا أُخِذَ وَاحْتُفِرَ وَغُرِسَ بِغَيْرِ حَقٍّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مالک نے خبر دی کہ ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ` ظالم رگ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص کسی غیر کی زمین میں درخت لگائے اور پھر اس زمین پر اپنا حق جتائے ۔ امام مالک کہتے ہیں : ظالم رگ ہر وہ زمین ہے جو ناحق لے لی جائے یا اس میں گڈھا کھود لیا جائے یا درخت لگا لیا جائے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3078
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم (3073)، (تحفة الأشراف: 4463) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان۔`
مالک نے خبر دی کہ ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ ظالم رگ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص کسی غیر کی زمین میں درخت لگائے اور پھر اس زمین پر اپنا حق جتائے۔ امام مالک کہتے ہیں: ظالم رگ ہر وہ زمین ہے جو ناحق لے لی جائے یا اس میں گڈھا کھود لیا جائے یا درخت لگا لیا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3078]
فوائد ومسائل:
بلاشبہ واقعاتی دنیا میں انہی حیلوں بہانوں سے دوسروں کا مال ہتھیانے کی کوشش ہوتی ہے۔
العیاذ باللہ
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3078 سے ماخوذ ہے۔