حدیث نمبر: 3076
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْآمُلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الأَرْضَ أَرْضُ اللَّهِ ، وَالْعِبَادَ عِبَادُ اللَّهِ وَمَنْ أَحْيَا مَوَاتًا فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ جَاءَنَا ، بِهَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ جَاءُوا بِالصَّلَوَاتِ عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عروہ کہتے ہیں کہ` میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فیصلہ ) فرمایا ہے کہ زمین اللہ کی ہے اور بندے بھی سب اللہ کے بندے ہیں اور جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اس زمین کا زیادہ حقدار ہے ، یہ حدیث ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ان لوگوں نے بیان کی ہے جنہوں نے آپ سے نماز کی روایت کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3076
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مرسل, وحديث السابق (3073) يغني عنه (معاذ علي زئي), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 113
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15637) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان۔`
عروہ کہتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فیصلہ) فرمایا ہے کہ زمین اللہ کی ہے اور بندے بھی سب اللہ کے بندے ہیں اور جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اس زمین کا زیادہ حقدار ہے، یہ حدیث ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ان لوگوں نے بیان کی ہے جنہوں نے آپ سے نماز کی روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3076]
فوائد ومسائل:
فائدہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے صرف عبادات ہی کے احکام نہیں بتائے۔
بلکہ معاملات اور حقوق کے مسائل بھی واضح کیے ہیں۔
جیسے کہ نماز روزے کے احکام جس طرح عبادات میں نبی کریم ﷺ کا فرمان قول فیصل ہے، اسی طرح معاملات میں بھی آپ ﷺ ہی کا فرمان حق وانصاف اور دنیا و آخرت میں باعث نجات ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3076 سے ماخوذ ہے۔