حدیث نمبر: 3072
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ حُضْرَ فَرَسِهِ فَأَجْرَى فَرَسَهُ حَتَّى قَامَ ، ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ فَقَالَ : " أَعْطُوهُ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اتنی زمین جاگیر میں دی جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے ، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا گھوڑا دوڑایا اور جہاں گھوڑا رکا اس سے آگے انہوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دے دو زبیر کو جہاں تک ان کا کوڑا پہنچا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3072
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2998), عبد الله العمري حسن الحديث عن نافع و ضعيف الحديث عن غيره
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 7729)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/156) (ضعیف الإسناد) » (اس کے راوی عبد اللہ بن عمر ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 783

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اتنی زمین جاگیر میں دی جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا گھوڑا دوڑایا اور جہاں گھوڑا رکا اس سے آگے انہوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دے دو زبیر کو جہاں تک ان کا کوڑا پہنچا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3072]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سند ا ضعیف ہے۔
مگر گزشتہ حدیث 3069 اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اموال بنی نضیر میں سے کچھ زمین عنایت فرمائی تھی۔
(صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3151) شاید وہ یہی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3072 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 783 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´بے آباد و بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھوڑے کی دوڑ کے برابر زمین جاگیر کے طور پر عنایت فرمائی۔ جب ان کا گھوڑا ٹھہر گیا تو انہوں نے اپنا کوڑا آگے پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک کوڑا گرا وہاں تک زبیر کی زمین ہے۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے مگر اس میں ضعف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 783»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الخراج، باب في إقطاع الأرضين، حديث:3072.* عبدالله بن عمر العمري حسن الحديث عن نافع، ضعيف عن غيره.»
تشریح: اس حدیث کی رو سے سربراہ مملکت کے لیے کسی آدمی کو اس کی مخصوص ملّی اور دینی خدمات کے صلے میں جاگیر دینا جائز ہے‘ البتہ یہ شرط ہے کہ وہ زمین کسی دوسرے کی ملکیت میں نہ ہو۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 783 سے ماخوذ ہے۔