سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ جَنُوبٍ بِنْتُ نُمَيْلَةَ ، عَنْ أُمِّهَا سُوَيْدَةَ بِنْتِ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّهَا عَقِيلَةَ بِنْتِ أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ ، عَنْ أَبِيهَا أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ ، فَقَالَ : " مَنْ سَبَقَ إِلَى مَاءٍ لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهُ " ، قَالَ : فَخَرَجَ النَّاسُ يَتَعَادَوْنَ يَتَخَاطُّونَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے بیعت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی ایسے پانی ( چشمے یا تالاب ) پر پہنچ جائے ( یعنی اس کا کھوج لگا لے ) جہاں اس سے پہلے کوئی اور مسلمان نہ پہنچا ہو تو وہ اس کا ہے “ ، ( یعنی وہ اس کا مالک و مختار ہو گا ) ( یہ سن کر ) لوگ دوڑتے اور نشان لگاتے ہوئے چلے ( تاکہ نشانی رہے کہ ہم یہاں تک آئے تھے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔`
اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے بیعت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی ایسے پانی (چشمے یا تالاب) پر پہنچ جائے (یعنی اس کا کھوج لگا لے) جہاں اس سے پہلے کوئی اور مسلمان نہ پہنچا ہو تو وہ اس کا ہے “، (یعنی وہ اس کا مالک و مختار ہو گا) (یہ سن کر) لوگ دوڑتے اور نشان لگاتے ہوئے چلے (تاکہ نشانی رہے کہ ہم یہاں تک آئے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3071]
اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے بیعت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی ایسے پانی (چشمے یا تالاب) پر پہنچ جائے (یعنی اس کا کھوج لگا لے) جہاں اس سے پہلے کوئی اور مسلمان نہ پہنچا ہو تو وہ اس کا ہے “، (یعنی وہ اس کا مالک و مختار ہو گا) (یہ سن کر) لوگ دوڑتے اور نشان لگاتے ہوئے چلے (تاکہ نشانی رہے کہ ہم یہاں تک آئے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3071]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم دیگر صحیح احادیث روشنی میں بنجر اور بے آباد علاقوں کی آباد کاری کی اجازت سب کے لئے مساوی ہے الا یہ کہ امام وقت کوئی علاقہ کسی کےلئے خاص کردے۔
جس طرح اگلے باب میں آرہا ہے۔
بخلاف ان چشموں کنوئوں یا تالابوں کے جو عام لوگوں کی گزرگاہوں پر واقع ہوں۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم دیگر صحیح احادیث روشنی میں بنجر اور بے آباد علاقوں کی آباد کاری کی اجازت سب کے لئے مساوی ہے الا یہ کہ امام وقت کوئی علاقہ کسی کےلئے خاص کردے۔
جس طرح اگلے باب میں آرہا ہے۔
بخلاف ان چشموں کنوئوں یا تالابوں کے جو عام لوگوں کی گزرگاہوں پر واقع ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3071 سے ماخوذ ہے۔