حدیث نمبر: 3068
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سَبْرَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدِ تَحْتَ دَوْمَةٍ ، فَأَقَامَ ثَلَاثًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ وَإِنَّ جُهَيْنَةَ لَحِقُوهُ بِالرَّحْبَةِ فَقَالَ لَهُمْ : " مَنْ أَهْلُ ذِي الْمَرْوَةِ ؟ فَقَالُوا : بَنُو رِفَاعَةَ مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَالَ : قَدْ أَقْطَعْتُهَا لِبَنِي رِفَاعَةَ فَاقْتَسَمُوهَا فَمِنْهُمْ مَنْ بَاعَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَمْسَكَ فَعَمِلَ " ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَاهُ عَبْدَ الْعَزِيزِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِي بِبَعْضِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنِي بِهِ كُلِّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ربیع جہنی کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ جہاں اب مسجد ہے ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ، وہاں تین دن قیام کیا ، پھر تبوک ۱؎ کے لیے نکلے ، اور جہینہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک وسیع میدان میں جا کر ملے ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : ” مروہ والوں میں سے یہاں کون رہتا ہے ؟ “ ، لوگوں نے کہا : بنو رفاعہ کے لوگ رہتے ہیں جو قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ، ، میں یہ زمین ( علاقہ ) بنو رفاعہ کو بطور جاگیر دیتا ہوں تو انہوں نے اس زمین کو آپس میں بانٹ لیا ، پھر کسی نے اپنا حصہ بیچ ڈالا اور کسی نے اپنے لیے روک لیا ، اور اس میں محنت و مشقت ( یعنی زراعت ) کی ۔ ابن وہب کہتے ہیں : میں نے پھر اس حدیث کے متعلق سبرہ کے والد عبدالعزیز سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اس کا کچھ حصہ بیان کیا پورا بیان نہیں کیا ۔

وضاحت:
۱؎: تبوک مدینہ سے شمال شام کی طرف ایک جگہ کا نام ہے، جہاں نو ہجری میں لشکر اسلام گیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3068
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبدالعزيز بن الربيع بن سبرة : لم يسمع من جده لأنه من الطبقة السابعة, انظر التقريب (4091) واللّٰه أعلم, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 113
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3812) (ضعیف) » (ربیع جہنی تابعی ضعیف ہیں، اور حدیث مرسل ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود 2/457)