حدیث نمبر: 3052
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ الْمَدِينِيُّ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ عِدَّةٍ ، مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَن آبَائِهِمْ دِنْيَةً ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا أَوِ انْتَقَصَهُ أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوصخر مدینی کا بیان ہے کہ` صفوان بن سلیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے کچھ بیٹوں سے اور انہوں نے اپنے آبائ سے ( جو ایک دوسرے کے عزیز تھے ) اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا یا اس کا کوئی حق چھینا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈالا یا اس کی کوئی چیز بغیر اس کی مرضی کے لے لی تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے ” وکیل “ ۱؎ ہوں گا “ ۔

وضاحت:
۱؎: حدیث میں «حجیج» کا لفظ ہے یعنی میں اس کے دعوے کی وکالت کروں گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3052
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عدة من أبناء أصحاب رسول اللّٰه ﷺ كلھم مجھولون, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 112
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15705) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ذمی مال تجارت لے کر پھریں تو ان سے عشر (دسواں حصہ) وصول کیا جائے گا۔`
ابوصخر مدینی کا بیان ہے کہ صفوان بن سلیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے کچھ بیٹوں سے اور انہوں نے اپنے آبائ سے (جو ایک دوسرے کے عزیز تھے) اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا یا اس کا کوئی حق چھینا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈالا یا اس کی کوئی چیز بغیر اس کی مرضی کے لے لی تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے وکیل ۱؎ ہوں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3052]
فوائد ومسائل:
کافرکا کافر ہونا اپنی جگہ پر۔
مگر انسانی حقوق میں رسول اللہ ﷺ مظلوم کی طرف ہوں گے۔
اور اس کو اس کا حق دلوایئں گے۔
کسی کا مسلمان ہو جانا اسے کافر کے انسانی حقوق غصب کرنے یا اس پر ظلم کرنے کی کسی صورت بھی اجازت نہیں دیتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3052 سے ماخوذ ہے۔