حدیث نمبر: 3051
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا فَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ فَيَتَّقُونَكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ " ، قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ : فَيُصَالِحُونَكُمْ عَلَى صُلْحٍ ، ثُمَّ اتَّفَقَا فَلَا تُصِيبُوا مِنْهُمْ شَيْئًا فَوْقَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جہینہ کے ایک شخص کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا ہو سکتا ہے کہ تم ایک قوم سے لڑو اور اس پر غالب آ جاؤ تو وہ تمہیں مال ( جزیہ ) دے کر اپنی جانوں اور اپنی اولاد کو تم سے بچا لیں “ ۔ سعید کی روایت میں ہے : «فيصالحونكم على صلح» پھر وہ تم سے صلح پر مصالحت کر لیں پھر ( مسدد اور سعید بن منصور دونوں راوی آگے کی بات پر ) متفق ہو گئے کہ : جتنے پر مصالحت ہو گئی ہو اس سے زیادہ کچھ بھی نہ لینا کیونکہ یہ تمہارے واسطے درست نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3051
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, رجل من ثقيف : مجهول،وإليه أشار المنذري (انظر عون المعبود 136/3), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 112
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15707) (ضعیف) » ( رجل من ثقیف مبہم مجہول راوی ہے)