سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَاتِ باب: ذمی مال تجارت لے کر پھریں تو ان سے عشر (دسواں حصہ) وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3049
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيِّ ،عَنْ جَدِّهِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ وَعَلَّمَنِي كَيْفَ آخُذُ الصَّدَقَةَ مِنْ قَوْمِي مِمَّنْ أَسْلَمَ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا عَلَّمْتَنِي قَدْ حَفِظْتُهُ إِلَّا الصَّدَقَةَ أَفَأُعَشِّرُهُمْ ؟ قَالَ : " لَا إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى النَّصَارَى وَالْيَهُودِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حرب بن عبیداللہ کے نانا جو بنی تغلب سے تعلق رکھتے تھے کہتے ہیں` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمان ہو کر آیا ، آپ نے مجھے اسلام سکھایا ، اور مجھے بتایا کہ میں اپنی قوم کے ان لوگوں سے جو اسلام لے آئیں کس طرح سے صدقہ لیا کروں ، پھر میں آپ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو آپ نے مجھے سکھایا تھا سب مجھے یاد ہے ، سوائے صدقہ کے کیا میں اپنی قوم سے دسواں حصہ لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، دسواں حصہ تو یہود و نصاریٰ پر ہے “ ۔