حدیث نمبر: 3047
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : خَرَاجٌ مَكَانَ الْعُشُورِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حرب بن عبیداللہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے` لیکن «عشور» کی جگہ «خراج» کا لفظ ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3047
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مرسل , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (3046), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15546، 18489) (ضعیف) » (حرب بن عبیداللہ لین الحدیث ہیں، نیز روایت مرسل ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ذمی مال تجارت لے کر پھریں تو ان سے عشر (دسواں حصہ) وصول کیا جائے گا۔`
حرب بن عبیداللہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے لیکن «عشور» کی جگہ «خراج» کا لفظ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3047]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
ان روایات میں لفظ (عشور) غالباً مشابہت کی وجہ سے استعمال کیا گیا ہے۔
ورنہ مسلمانوں کی زرعی آمدنی پر بھی عشر لگتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3047 سے ماخوذ ہے۔