سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي التَّشْدِيدِ فِي جِبَايَةِ الْجِزْيَةِ باب: جزیہ کے وصول کرنے میں ظلم کرنا ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 3045
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَجَدَ رَجُلًا وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ الْقِبْطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ` ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما نے حمص کے ایک عامل ( محصل ) کو دیکھا کہ وہ کچھ قبطیوں ( عیسائیوں ) سے جزیہ وصول کرنے کے لیے انہیں دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دے رہا تھا ، تو انہوں نے کہا : یہ کیا ہے ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیا کرتے ہیں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ظلم کرتے ہیں، اور لوگوں کو جرم اور قصور سے زیادہ سزا دیتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جزیہ کے وصول کرنے میں ظلم کرنا ناجائز ہے۔`
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما نے حمص کے ایک عامل (محصل) کو دیکھا کہ وہ کچھ قبطیوں (عیسائیوں) سے جزیہ وصول کرنے کے لیے انہیں دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دے رہا تھا، تو انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیا کرتے ہیں ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3045]
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما نے حمص کے ایک عامل (محصل) کو دیکھا کہ وہ کچھ قبطیوں (عیسائیوں) سے جزیہ وصول کرنے کے لیے انہیں دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دے رہا تھا، تو انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیا کرتے ہیں ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3045]
فوائد ومسائل:
معقول وجہ کے بغیر کسی کو سزا دینا بہت بڑا گناہ اور ظلم ہے۔
خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اگر وہ ٹیکس دینے میں معذور ہو تو اس کو مناسب سہولت دی جانی چاہیے۔
ہاں اگر عذر کوئی نہ ہو تو سزا دی جا سکتی ہے۔
مگر وہ بھی جو مناسب ہو۔
معقول وجہ کے بغیر کسی کو سزا دینا بہت بڑا گناہ اور ظلم ہے۔
خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اگر وہ ٹیکس دینے میں معذور ہو تو اس کو مناسب سہولت دی جانی چاہیے۔
ہاں اگر عذر کوئی نہ ہو تو سزا دی جا سکتی ہے۔
مگر وہ بھی جو مناسب ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3045 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2613 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عروہ رحمۃ اللہ علیہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، ہشام بن حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حمص کے گورنر کو دیکھا کہ اس نے جزیہ کی ادائیگی کے لیے کچھ کسانوں کا دھوپ میں کھڑا کیا ہوا ہے تو انھوں نے پوچھا یہ کیا سزا ہے؟میں نے کہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےہوئے سنا،"اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا،"جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6660]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جزیہ اور خراج سے مراد وہ رقم ہے جو مسلمانوں کے علاقہ میں رہنے والے غیر مسلموں سے ان کے تحفظ اور پناہ دینے کے باعث وصول کی جاتی تھی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2613 سے ماخوذ ہے۔