حدیث نمبر: 3042
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّ أَهْلَ فَارِسَ لَمَّا مَاتَ نَبِيُّهُمْ كَتَبَ لَهُمْ إِبْلِيسُ الْمَجُوسِيَّةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب اہل فارس کے نبی مر گئے تو ابلیس نے انہیں مجوسیت ( یعنی آگ پوجنے ) پر لگا دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3042
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (حسن الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مجوس سے جزیہ لینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب اہل فارس کے نبی مر گئے تو ابلیس نے انہیں مجوسیت (یعنی آگ پوجنے) پر لگا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3042]
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول دلیل ہے کہ یہ لوگ اصل میں ایک نبی کی امت تھے بعد میں شیطان نے انہیں گمراہ کیا۔
جب انہوں نے اپنے دین کو بالکل ہی مسخ کردیا۔
تو ان سے اہل کتاب ہونے کا لقب بھی اٹھا لیا گیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3042 سے ماخوذ ہے۔