حدیث نمبر: 3037
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأُخِذَ فَأَتَوْهُ بِهِ ، فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ سے ( مرفوعاً ) اور عثمان بن ابو سلیمان سے ( مرسلاً ) روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو اکیدر ۱؎ دومہ کی طرف بھیجا ، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ، آپ نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ پر اس سے صلح کر لی ۔

وضاحت:
۱؎: اکیدر شہر دومہ کا نصرانی بادشاہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زندہ پکڑ لانے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3037
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن إسحاق عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 937، 19002) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 1124

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جزیہ لینے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) اور عثمان بن ابو سلیمان سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو اکیدر ۱؎ دومہ کی طرف بھیجا، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، آپ نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ پر اس سے صلح کر لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3037]
فوائد ومسائل:

مملکت اسلامیہ اپنی غیر مسلم رعایا سے ایک ٹیکس لیتی ہے۔
جو ان کی وہاں سہولت ورہائش اور ان کی جانوں مالوں اور عزتوں کی حفاظت کرنے کے بدلے میں لے لیا جاتا ہے۔
اور وہ سرحدوں کی حفاظت اور (دفاع) قتال جیسی ذمہ داریوں کے مکلف نہیں ہوتے۔
اسی ٹیکس کو جزیہ کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے۔
(قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ) (التوبة:29) قتال کرو ان سے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔
اور نہ قیامت کو تسلیم کرتے ہیں۔
اور نہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی حرام کردہ چیزوں کوحرام گردانتے ہیں۔
اور نہ سچے دین کے تابع ہوتے ہیں۔
یعنی وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی۔
(ان سے قتال کرتے رہو) حتیٰ کہ اپنے ہاتھوں سے ذلیل ہوتےہوئے جزیہ ادا کریں۔
مسلمان سوسائٹی کی بہبود کےلئےذکواۃ ادا کرتے ہیں۔
یہ ایک اعزاز ہے۔
غیر مسلم رعایا سے زکواۃ وصول نہیں کی جاتی۔
بلکہ اس سے کم مقدار میں جزیہ وصول کیا جاتا ہے۔


اکیدر دومہ غسانی عرب تھا۔
اور یہ دلیل ہے کہ غیرمسلم عرب سے بھی جزیہ لینا ضروری ہے۔
جیسے کہ عجمیوں سے لیا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3037 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1124 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´جزیہ اور صلح کا بیان`
عاصم بن عمر رحمہ اللہ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن ابی سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دومہ الجندل کے حکمران اکیدر کے پاس بھیجا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون نہ بہایا اور اس سے جزیہ پر مصالحت کر لی۔ (ابوداؤد) «بلوغ المرام/حدیث: 1124»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الخراج، باب في أخذ الجزية، حديث:3037.»
تشریح: 1. اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عرب اہل کتاب سے بھی جزیہ لینا جائز ہے۔
2. اکیدر عرب کا ایک عیسائی رئیس تھا اور غسانی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔
(سبل السلام)
راویٔ حدیث:
«حضرت عاصم بن عمر رحمہ اللہ» ابوعمر عاصم بن عمر بن قتادہ بن نعمان انصاری ثقہ تھے‘ تابعی تھے اور کثیر الحدیث تھے۔
علم دین کے بہت بڑے راوی تھے‘ مغازی اور سیرت کے علم سے بہرہ ور تھے۔
ان کے سن وفات کے بارے میں مختلف اقوال ہیں: ۱۱۹‘ ۱۲۰‘ ۱۲۱‘ ۱۲۷‘ ۱۲۹ ہجری وغیرہ۔
«حضرت عثمان بن ابو سلیمان رحمہ اللہ» عثمان بن ابی سلیمان بن جبیر بن مطعم‘ مکہ کے قاضی تھے۔
امام احمد‘ ابن معین اور ابو حاتم رحمہم اللہ نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔
عثمان چونکہ تابعی ہیں‘ اس لیے عاصم کی یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے متصلاً اور عثمان سے مرسلاً ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1124 سے ماخوذ ہے۔