حدیث نمبر: 3033
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالَ : قَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ : جَزِيرَةُ الْعَرَبِ مَا بَيْنَ الْوَادِي إِلَى أَقْصَى الْيَمَنِ إِلَى تُخُومِ الْعِرَاقِ إِلَى الْبَحْرِ . قَالَ أَبُو دَاوُد قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ ، وَأَنَا شَاهِدٌ ، أَخْبَرَكَ أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : قَالَ مَالِكٌ : عُمَرُ أَجْلَى أَهْلَ نَجْرَانَ وَلَمْ يُجْلَوْا مِنْ تَيْمَاءَ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ بِلَادِ الْعَرَبِ ، فَأَمَّا الْوَادِي فَإِنِّي أَرَى أَنَّمَا لَمْ يُجْلَ مَنْ فِيهَا مِنَ الْيَهُودِ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْهَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید یعنی ابن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ` جزیرہ عرب وادی قریٰ سے لے کر انتہائے یمن تک عراق کی سمندری حدود تک ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حارث بن مسکین کے سامنے یہ پڑھا گیا اور میں وہاں موجود تھا کہ اشہب بن عبدالعزیز نے آپ کو خبر دی ہے کہ مالک کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اہل نجران ۱؎ کو جلا وطن کیا ، اور تیماء سے جلا وطن نہیں کیا ، اس لیے کہ تیماء ۲؎ بلاد عرب میں شامل نہیں ہے ، رہ گئے وادی قریٰ کے یہودی تو میرے خیال میں وہ اس وجہ سے جلا وطن نہیں کئے گئے کہ ان لوگوں نے وادی قری کو عرب کی سر زمین میں سے نہیں سمجھا ۔

وضاحت:
۱؎: شام و حجاز کے درمیان ایک گاؤں ہے۔
۲؎: سمندر کے قریب شام کے نواح میں ایک مقام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3033
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19251) (منقطع) » (امام مالک نے اپنی سند کا ذکر نہیں کیا اس لئے انقطاع ہے)