حدیث نمبر: 3032
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكُونُ قِبْلَتَانِ فِي بَلَدٍ وَاحِدٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک ملک میں دو قبلے نہیں ہو سکتے “ ، ( یعنی مسلمان اور یہود و نصاریٰ عرب میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3032
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (633،634), قابوس : فيه لين (تق : 5445) ضعيف ضعفه الجمهور, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 110
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الزکاة 11 (633)، (تحفة الأشراف: 5399)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 223، 285) (ضعیف) » (اس کے راوی قابوس ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 633

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ملک میں دو قبلے نہیں ہو سکتے ، (یعنی مسلمان اور یہود و نصاریٰ عرب میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3032]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
لیکن جس طرح عیسایئت کے مرکز ویٹکین سٹیٹ میں دوسرے دین کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں، اسی طرح مرکز اسلام کو اندرونی خلفشار سے پاک رکھنا عین مصلحت ہے۔
مسلمانوں کا قبلہ بیت اللہ الحرام ہے، جبکہ یہودیوں اور عیسایئوں کا قبلہ بیت المقدس ہے، قبلہ اس سمت کا تعین کرتا ہے۔
جس طرف فکر وعقیدہ کا رخ ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3032 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 633 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مسلمانوں پر جزیہ نہیں ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سر زمین پر دو قبلے ہونا درست نہیں ۱؎ اور نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 633]
اردو حاشہ:
1؎:
ایک سر زمیں پر دو قبلے کا ہونا درست نہیں کا مطلب یہ ہے کہ ایک سر زمین پر دو دین والے بطور برابری کے نہیں رہ سکتے کوئی حاکم ہو گا کوئی محکوم۔

2؎:
نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے کا مطلب یہ ہے کہ ذمیوں میں سے کوئی ذمی اگر جزیہ کی ادائیگی سے پہلے مسلمان ہو گیا ہو تو اس سے جزیہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔

نوٹ:
(سند میں قابوس ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 633 سے ماخوذ ہے۔