حدیث نمبر: 303
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ ، أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ ، فَقَالَ : " تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ فَتُصَلِّي ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ فِي الْأَيَّامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´محمد بن عثمان سے روایت ہے کہ` انہوں نے قاسم بن محمد سے مستحاضہ کے بارے میں پوچھا تو قاسم بن محمد نے کہا : وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی ، پھر غسل کرے گی اور نماز پڑھے گی ، پھر باقی ایام میں غسل کرتی رہے گی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, انفرد به ابو داود
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 19205) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مستحاضہ عورت استحاضہ کے دنوں میں غسل کرے۔`
محمد بن عثمان سے روایت ہے کہ انہوں نے قاسم بن محمد سے مستحاضہ کے بارے میں پوچھا تو قاسم بن محمد نے کہا: وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی اور نماز پڑھے گی، پھر باقی ایام میں غسل کرتی رہے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 303]
303. اردو حاشیہ:
 یہ حکم شرعی نہیں بلکہ معمول کا غسل ہے جو انسان حسب خواہش یا حسب ضرورت نظافت اور پاکیزگی کے لیے کرتا رہتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 303 سے ماخوذ ہے۔