سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي خَبَرِ الطَّائِفِ باب: فتح طائف کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ مَنْجُوفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهِ أَنْ لَا يُحْشَرُوا وَلَا يُعْشَرُوا وَلَا يُجَبَّوْا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكُمْ أَنْ لَا تُحْشَرُوا وَلَا تُعْشَرُوا وَلَا خَيْرَ فِي دِينٍ لَيْسَ فِيهِ رُكُوعٌ " .
´عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب ثقیف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اہل وفد کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں ، انہوں نے شرط رکھی کہ وہ جہاد کے لیے نہ اکٹھے کئے جائیں نہ ان سے عشر ( زکاۃ ) لی جائے اور نہ ان سے نماز پڑھوائی جائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خیر تمہارے لیے اتنی گنجائش ہو سکتی ہے کہ تم جہاد کے لیے نہ نکالے جاؤ ( کیونکہ اور لوگ جہاد کے لیے موجود ہیں ) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم سے زکاۃ نہ لی جائے ( کیونکہ بالفعل سال بھر نہیں گزرا ) لیکن اس دین میں اچھائی نہیں جس میں رکوع ( نماز ) نہ ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اہل وفد کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں، انہوں نے شرط رکھی کہ وہ جہاد کے لیے نہ اکٹھے کئے جائیں نہ ان سے عشر (زکاۃ) لی جائے اور نہ ان سے نماز پڑھوائی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خیر تمہارے لیے اتنی گنجائش ہو سکتی ہے کہ تم جہاد کے لیے نہ نکالے جاؤ (کیونکہ اور لوگ جہاد کے لیے موجود ہیں) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم سے زکاۃ نہ لی جائے (کیونکہ بالفعل سال بھر نہیں گزرا) لیکن اس دین میں اچھائی نہیں جس میں رکوع (نماز) نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3026]
1۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
مگر دیگر احادیث سے یہ بات ثابت ہے۔
کہ امیر المسلمین کی اجازت سے کافروں کی مسجد میں یا حرم مکہ یا مدینہ میں آجانا جائز ہے۔
2۔
جو شخص نماز کا اہتمام نہیں کرتا۔
اس کا کوئی دین نہیں۔
خواہ وہ کتنے ہی اخلاق وکردار کا مالک ہو۔
کیونکہ وہ اللہ سے بندگی کا تعلق نہیں رکھتا۔
جہاد اور صدقات اپنے وقت پر لاگو ہوتے ہیں۔
اور ان کا ابھی وقت نہ تھا۔
البتہ نماز ہر روز اور اپنے وقت پر فرض تھی۔
اس لئے اس میں چھوٹ دینا قبول نہیں فرمایا۔