حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ غَنِمُوا يَوْمَ الْفَتْحِ شَيْئًا ؟ قَالَ : لَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´وہب ( وہب بن منبہ ) کہتے ہیں` میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا مسلمانوں کو فتح مکہ کے دن کچھ مال غنیمت ملا تھا ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3023
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3135) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فتح مکہ کا بیان۔`
وہب (وہب بن منبہ) کہتے ہیں میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا مسلمانوں کو فتح مکہ کے دن کچھ مال غنیمت ملا تھا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3023]
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے بعض علماء کا استدلال ہے۔
کہ مکہ کی فتح بطور صلح ہوئی تھی۔
اور بعض علماء کہتے ہیں کہ نہیں یہ رسول اللہ ﷺ کا ان پر احسا ن تھا۔
اور یہی بات صحیح ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس ارض مقدس کو غنیمت یا فے قرار دینا گوارار نہ فرمایا۔
یہ ابتداء ہی سے اللہ کے دین کا مرکز تھا۔
اور یہیں سے وحی کا آغاز ہوا۔
یہیں وہ اولین جماعت بنی جو امت کا مرکز تھی۔
اسلام اور مسلمانوں کی یہاں واپسی کو اپنے ہی گھر کی طرف واپسی کے طور پر لیا گیا۔
یہاں کے باشندے جب اسلام میں داخل ہوگئے تو پورے اخلاص کے ساتھ داخل ہوئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3023 سے ماخوذ ہے۔