حدیث نمبر: 302
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ مَعْقِلٍ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا انْقَضَى حَيْضُهَا ، اغْتَسَلَتْ كُلَّ يَوْمٍ وَاتَّخَذَتْ صُوفَةً فِيهَا سَمْنٌ أَوْ زَيْتٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب مستحاضہ کا حیض آنا بند ہو جائے تو ہر روز ( وقت کی تخصیص کے بغیر ) غسل کرے اور گھی یا روغن زیتون لگا ہوا روئی کا ٹکڑا شرمگاہ میں رکھ لے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 302
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, معقل الخثعمي: مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان،وقال ابن حجر: ’’مجهول‘‘ (تقريب: 6801), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 25
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 10282) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مستحاضہ ہر روز ایک غسل کرے اور ظہر کی قید نہیں۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مستحاضہ کا حیض آنا بند ہو جائے تو ہر روز (وقت کی تخصیص کے بغیر) غسل کرے اور گھی یا روغن زیتون لگا ہوا روئی کا ٹکڑا شرمگاہ میں رکھ لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 302]
302۔ اردو حاشیہ:
بعض علماء اس کے قائل ہیں اور یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے، مگر مرفوع حدیث نہیں ہے اور وہ بھی سنداًً ضعیف ہے اور ظاہر کہ یہ صورت واجب نہیں بطور نظافت مستحب و مندوب ہے اور علامہ منذری نے اسے ’’غریب کہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 302 سے ماخوذ ہے۔