حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ عَنْوَةً بَعْدَ الْقِتَالِ ، وَنَزَلَ مَنْ نَزَلَ مِنْ أَهْلِهَا عَلَى الْجَلَاءِ بَعْدَ الْقِتَالِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ` مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو طاقت کے ذریعہ لڑ کر فتح کیا اور خیبر کے جو لوگ قلعہ سے نکل کر جلا وطن ہوئے وہ بھی جنگ کے بعد ہی جلا وطنی کی شرط پر قلعہ سے باہر نکلے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: پھر انہوں نے منت سماجت کی اور کہنے لگے کہ ہمیں یہاں رہنے دو، ہم زراعت (کھیتی باڑی) کریں گے، اور نصف پیداوار آپ کو دیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں رکھ لیا، اس شرط کے ساتھ کہ جب ہم چاہیں گے، نکال دیں گے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3018
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق أنس الشطر الأول والشطر الآخر تقدم في حديث ابن عمر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل،سعيد بن المسيب وابن شهاب الزهري من التابعين, والحديث السابق (الأصل : 3005) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 110
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19402) (ضعیف) » (اس سند میں انقطاع ہے، زہری اور نبی کریم صلی+اللہ+علیہ+وسلم کے درمیان واسطے کا پتہ نہیں ہے مگر بات یہی صحیح ہے کہ خبیر بزور طاقت (جنگ سے) فتح کیا گیا تھا جیساکہ صحیح اور متصل مرفوع روایات میں وارد ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3017

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔`
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو طاقت کے ذریعہ لڑ کر فتح کیا اور خیبر کے جو لوگ قلعہ سے نکل کر جلا وطن ہوئے وہ بھی جنگ کے بعد ہی جلا وطنی کی شرط پر قلعہ سے باہر نکلے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3018]
فوائد ومسائل:
اس کی پوری تفصیل حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی حدیث نمبر 3006 میں گزر چکی ہے۔
مگر بعد میں انہی کے ساتھ معاہدہ ہوگیا۔
کہ وہ بٹائی پر یہ زمینیں کاشت کریں گے۔
اور جب تک مسلمان چاہیں گے وہ یہاں رہ سکیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3018 سے ماخوذ ہے۔