سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ باب: خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3015
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنَ مُجَمِّعٍ يَذْكُرُ لِي ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ ، قَالَ : " قُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا ، وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُ مِائَةِ فَارِسٍ ، فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجمع بن جاریہ انصاری ( جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے ) کہتے ہیں کہ` خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا ، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی ، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہی لوگ مکہ سے آ کر خیبر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔`
مجمع بن جاریہ انصاری (جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3015]
مجمع بن جاریہ انصاری (جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3015]
فوائد ومسائل:
مجاہدین کی یہ تعداد اندازے سے بتائی گئ۔
جبکہ صحیح تعداد چودہ سو تھی۔
اور گھوڑوں کی تعداد دو سو۔
گھوڑوں کے مستقل حصے چار سو ہوئے۔
اور مجاہدین کے چودہ سو۔
کل اٹھارہ سو۔
یا یوں سمجھ لیں کہ دو سو گھڑ سواروں کے حصے چھ سو ہوئے۔
اور باقی بارہ سو مجاہدین کے بارہ سو کل اٹھارہ سو۔
مجاہدین کی یہ تعداد اندازے سے بتائی گئ۔
جبکہ صحیح تعداد چودہ سو تھی۔
اور گھوڑوں کی تعداد دو سو۔
گھوڑوں کے مستقل حصے چار سو ہوئے۔
اور مجاہدین کے چودہ سو۔
کل اٹھارہ سو۔
یا یوں سمجھ لیں کہ دو سو گھڑ سواروں کے حصے چھ سو ہوئے۔
اور باقی بارہ سو مجاہدین کے بارہ سو کل اٹھارہ سو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3015 سے ماخوذ ہے۔