حدیث نمبر: 3012
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الأَنْصَارِ ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ النِّصْفُ مِنْ ذَلِكَ ، وَعَزَلَ النِّصْفَ الْبَاقِيَ لِمَنْ نَزَلَ بِهِ مِنَ الْوُفُودِ وَالأُمُورِ وَنَوَائِبِ النَّاسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بشیر بن یسار جو انصار کے غلام تھے بعض اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر پر غالب آئے تو آپ نے اسے چھتیس حصوں میں تقسیم فرمایا ، ہر ایک حصے میں سو حصے تھے تو اس میں سے نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے ہوا اور باقی نصف آنے والے وفود اور دیگر کاموں اور اچانک مسلمانوں کو پیش آنے والے حادثات و مصیبتوں میں خرچ کرنے کے لیے الگ کر کے رکھ دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3012
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3011)، (تحفة الأشراف: 15535، 18456) (صحیح الإسناد) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3013 | سنن ابي داود: 3014

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3013 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔`
بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے خیبر اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے (۳۶ چھتیس) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے، تو اس کے نصف حصے اپنی ضرورتوں و کاموں کے لیے رکھا اور اسی میں سے وطیحہ وکتیبہ ۱؎ اور ان سے متعلق جائیداد بھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ ۲؎ ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ان دونوں گاؤں کے متعلقات میں تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3013]
فوائد ومسائل:
قلعوں کے آخری مجموعے جو مسلمانوں نے بزور شمشیر فتح کیے وہ حصون النطاۃ اور حصون الشق تھے۔
یہاں سے جو یہودی جان بچا کر بھاگ نکلے انہوں نے حصون الکتیبہ کے مجموع میں پناہ لی۔
اس میں تین قلعے تھے۔
سب سے بڑا قموس۔
پھر وطیح اور سلالم تھا۔
جب ان کا محاصرہ ہوا تو یہ قلعے مالکوں نے لڑنے والوں کی جان بخشی اور ان کے بچوں کی آزادی کی شرائط پر خود رسول اللہﷺ کے سپرد کردیئے۔
(عون المعبود۔
باب ما جاء فی حکم ارض خیبر بحوالہ زرقانی) ان کے بعد فدک والوں نے اپنے علاقے حوالے کیے۔
(فتح الباري، کتاب فرض الخمس، باب فرض الخمس) رسول اللہ ﷺ لئے یہی علاقے مخصوص تھے۔
کیونکہ یہی بغیر لڑے آپ کی تحویل میں آئے تھے۔
ان کو مضافات وملحقات کہا گیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3013 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3014 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔`
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ نے خیبر کا مال عطا کیا تو آپ نے اس کے کل چھتیس حصے کئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے الگ کر دئیے، ہر حصے میں سو حصے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں کے ساتھ تھے آپ کا بھی ویسے ہی ایک حصہ تھا جیسے ان میں سے کسی دوسرے شخص کا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصے (یعنی نصف آخر) اپنی ضروریات اور مسلمانوں کے امور کے لیے الگ کر دیے، اسی نصف میں وطیح، کتیبہ اور سلالم (دیہات کے نام ہیں) اور ان کے متعلقات تھے، جب یہ سب اموال رسول ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3014]
فوائد ومسائل:
خیبر کا آدھا حصہ جو بطور غنیمت حاصل ہوا تھا۔
اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کا حصہ تھا۔
آپﷺ اپنا یہ بقیہ حصہ فی کے ساتھ ملا کر سارا صدقہ کردیا کرتے تھے۔
البتہ اس میں سے بقدر کفاف اپنی ازواج کو دیتے تھے۔
جس طرح پہلے بالتفصیل بیان ہوچکا ہے۔


اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زمین کو حصہ داری پر کاشت کرانا جسے مزارعت اور بٹائی کہا جاتا ہے۔
ایک جائز معاملہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3014 سے ماخوذ ہے۔